تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۴ سورة القدر کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بڑ اور بحر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا پس اس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالی نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے۔اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ( الحديد : ۱۸ )۔یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اس کو نئے سرے زندہ کرتا ہے۔(براہین احمد یہ روحانی چهار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۱۹،۴۱۸ حاشیہ نمبر ۱۱) اس سورۃ کا حقیقی مطلب جو ایک بھاری صداقت پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اس قاعدہ سختی کا بیان فرمانا ہے کہ دنیا میں کب اور کس وقت میں کوئی کتاب اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔سو وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دلوں پر ایک ایسی غلیظ ظلمت طاری ہو جاتی ہے کہ یکبارگی تمام دل رو بدنیا ہو جاتے ہیں اور پھر رو بدنیا ہونے کی شامت سے ان کے تمام عقائد و اعمال و افعال و اخلاق و آداب اور نیتوں اور ہمتوں میں اختلال کلی راہ پا جاتا ہے اور محبت الہیہ دلوں سے بکلی اٹھ جاتی ہے اور یہ عام و با ایسا پھیلتا ہے کہ تمام زمانہ پر رات کی طرح اندھیرا چھا جاتا ہے تو ایسے وقت میں یعنی جب وہ اندھیرا اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے رحمت الہبیہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس اندھیری سے خلاصی بخشے اور جن طریقوں سے ان کی اصلاح قرین مصلحت ہے ان طریقوں کو اپنے کلام میں بیان فرمادے سو اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جس میں بندوں کی اصلاح اور بھلائی کے لئے صراط مستقیم کی کیفیت بیان کرنا اور شریعت اور دین کی حدود کو بتلانا از بس ضروری تھا یعنی جب گمراہی کی تاریکی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ جیسی سخت اندھیری رات ہوتی ہے تو اس وقت رحمت الہی اس طرف متوجہ ہوئی کہ اس سخت اندھیری کے اٹھانے کے لئے ایسا قوی نور نازل کیا جائے کہ جو اس اندھیری کو دور کر سکے۔سوخدا نے قرآن شریف کو نازل کر کے اپنے بندوں کو وہ عظیم الشان نور عطا کیا کہ جو شکوک اور شبہات کی اندھیری کو دور کرتا ہے اور روشنی کو پھیلاتا ہے۔اس جگہ جانا چاہئے کہ اس باطنی لیلتہ القدر کو ظاہری لیلتہ القدر سے کہ جو عند العوام مشہور ہے کچھ منافات نہیں بلکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ ہر ایک کام مناسبت سے کرتا ہے اور حقیقت باطنی کے لئے جو ظاہری صورت مناسب ہو وہ اس کو عطا فرماتا ہے۔سو چونکہ لیلتہ القدر کی حقیقت باطنی وہ کمال ضلالت کا وقت ہے جس میں عنایت الہیہ اصلاح عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے سوخدائے تعالیٰ نے بغرض تحقق مناسبت اس زمانہ ضلالت کی آخری جز کو جس میں ضلالت اپنے نکتہ کمال تک