تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 275

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة الشمس چاہیے جیسا کہ غلطیاں نکالنے کے بغیر املا درست نہیں ہوتا ویسا ہی غلطیاں نکالنے کے بغیر اخلاق بھی درست نہیں ہوتے آدمی ایسا جانور ہے کہ اس کا تزکیہ ساتھ ساتھ ہوتا رہے تو سیدھی راہ پر چلتا ہے ورنہ بہک جاتا ہے۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۵،۴۴ مورخه ۵/اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحه ۹) دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ ذكتها پر عمل کرنے سے ملتا ہے۔جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام واکرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری ، مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب روحانی طور پر پاتا ہے۔الحام جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۹) کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جاوے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئے جاویں کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۰ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۱ صفحه۱) یا د رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَ تھا۔ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶) سلب امراض سے جن لوگوں کو مسیح نے عیسائیوں کے قول کے موافق زندہ کیا وہ آخر مر گئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قد أَفْلَحَ مَنْ زَكتها کے نیچے لا کر جن کو زندہ کیا وہ ابد الآباد تک زندہ رہے۔صحابہ کا مقابلہ حواریوں سے ہو ہی نہیں سکتا۔ساری انجیل میں ایک بھی فقرہ ایسا نہیں جو صحابہ کی اس حالت کا جو قرآن نے بیان کی ہے کہ خدا کی راہ میں انہوں نے جان و مال سے دریغ نہ کیا، مقابلہ کر سکے۔انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی راہ میں جو صدق دکھا یا وہ لا نظیر ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۴) اصل تقومی جس سے انسان دھویا جاتا ہے اور صاف ہوتا ہے اور جس کے لئے انبیاء آتے ہیں وہ دنیا سے اُٹھ گیا ہے۔کوئی ہوگا جو قد افلح من زكتها کا مصداق ہوگا۔پاکیزگی اور طہارت عمدہ شے ہے۔انسان پاک اور مطہر ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں لوگوں میں اس کی قدر نہیں ہے ورنہ ان کی لذات کی ہر ایک شے حلال ذرائع سے ان کو ملے۔چور چوری کرتا ہے کہ مال ملے لیکن اگر صبر کرے تو خدا تعالیٰ اسے اور راہ سے مالدار کر دے۔اسی طرح زانی زنا کرتا ہے اگر صبر کرے تو خدا اس کی خواہش کو اور راہ سے پوری کر