تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 2
سورة المُنفِقُونَ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رزق ہے ، جس کو اللہ سے کوئی واسطہ نہیں رہتا۔بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے دور ڈالتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کر کے فرمایا ہے لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں اور رزق اصطفا کے طور پر وہ ہوتا ہے، جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولی خدا ہو جاتا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے، وہ اس کو خدا ہی کا سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دکھاتے ہیں۔صحابہ کی حالت کو دیکھو ! جب امتحان کا وقت آیا تو جو کچھ کسی کے پاس تھا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابوبکر صدیق سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبیل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی، خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے، جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخه ۲۳/جون ۱۸۹۹ صفحه ۱) وَلَنْ يُوَخِرَ اللهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ) منافقانہ رجوع در حقیقت رجوع نہیں ہے لیکن جو خوف کے وقت میں ایک شقی کے دل میں واقعی طور پر ایک ہر اس اور اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے اس کو خدا تعالیٰ نے رجوع میں ہی داخل رکھا ہے اور سنت اللہ نے ایسے رجوع کو دنیوی عذاب میں تاخیر پڑنے کا موجب ٹھہرایا ہے گو اخروی عذاب ایسے رجوع سے ٹل نہیں سکتا مگر دنیوی عذاب ہمیشہ ملتا رہا ہے اور دوسرے وقت پر پڑتا رہا ہے۔قرآن کو غور سے دیکھو اور جہالت کی باتیں مت کرو اور یادر ہے کہ آیت لَن يُوخّرَ اللهُ نَفْسًا کو اس مقام سے کچھ تعلق نہیں اس آیت کا تو مدعا یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آ جاتی ہے تومل نہیں سکتی مگر اس جگہ بحث تقدیر معلق میں ہے جو مشروط بشرائط ہے جبکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے کہ میں استغفار اور تضرع اور غلبہ خوف کے وقت میں عذاب کو کفار کے سر پر سے ٹال دیتا ہوں اور ٹالتا رہا ہوں پس اس سے بڑھ کر سچا گواہ اور کون ہے جس کی شہادت قبول کی جائے۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۸۰)