تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 1

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّجِيمِ 1 سورة المُنْفِقُونَ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المُنْفِقُونَ بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَايِنُ السّمواتِ وَالْاَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ) وہ شخص بڑا نادان ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے وہ وَلِلَّهِ خَزَايِنُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا کے پاس آسمان وزمیں کے خزانے ہیں۔منافق اس کو سمجھ نہیں سکتے لیکن مومن اس پر ایمان لاتا اور یقین کرتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر سب لوگ جو اس وقت موجود ہیں اور اس سلسلہ میں داخل ہیں یہ سمجھ کر کہ آئے دن ہم پر بوجھ پڑتا ہے وہ دست بردار ہوجائیں اور بخل سے یہ کہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کر دے گا جو ان سب اخراجات کا بوجھ خوشی سے اٹھائے اور پھر بھی سلسلہ کا احسان مانے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴/جون ۱۹۰۶ صفحه ۲) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكرِ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ۔رزق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ابتلا کے طور پر، دوسرے اصطفا کے طور پر۔رزق ابتلا کے طور پر تو وہ