تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 243

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة الفجر گذشتہ ارواح میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وفات نہ پالے۔پس جبکہ ہمو جب نص قرآن شریف کے گذشتہ ارواح میں داخل ہونا۔بجز مرنے کے ممتنع اور محال ہے تو پھر کیوں کر حضرت عیسی علیہ السلام بغیر فوت ہونے کے حضرت یحیی کے پاس دوسرے آسمان میں جا بیٹھے۔اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے وَادْخُلِی جَنَّتِی جس کے معنے اس فقرہ کو تمام آیت کے ساتھ ملانے سے یہ ہوتے ہیں کہ اے نفس آرام یافتہ اپنے خدا کی طرف واپس آجا تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی اور میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔پس جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشاہدہ سے جو معراج کی رات میں آپ کو ہوا یہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کی اس آیت کے مطابق نبیوں اور رسولوں کی روحیں جو دنیا سے گزرچکی ہیں وہ عالم ثانی میں ایک ایسی جماعت کی طرح ہیں جو بلا توقف پچھلی فوت ہونے والے پہلوں کے گروہ میں جاملتی ہیں اور ان میں داخل ہو جاتی ہیں جیسا کہ آیت فَادْخُلی فی عبدی کا منشا ہے پھر آخری فقرہ ان آیات کا یعنی وَادْخُلِي جَنَّتِی بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ تمام عباداللہ بلا توقف بہشت میں داخل ہوں اور جیسا کہ آیت فی عبدی کا مفہوم کوئی مترقب امر نہیں جو دور دراز زمانہ کے بعد ظہور میں آوے بلکہ راست بازوں کے مرنے کے ساتھ ہی بلا توقف اس کا ظہور ہوتا ہے یعنی ایک جماعت جو بعد میں مرتی ہے پہلوں میں بلا توقف جاملتی ہے۔پس اس طرح لازم آتا ہے کہ دوسرا فقرہ آیت کا یعنی وَادْخُلِي جَنَّتی وہ بھی بلا توقف ظہور میں آتا ہو یعنی ہر ایک شخص جو طیب اور طاہر مومنوں میں سے مرے وہ بھی بلا توقف بہشت میں داخل ہو جائے اور یہی بات حق ہے جیسا کہ قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں بھی اس کی تشریح ہے۔۔۔پس جب کہ ارواح طیبین مطہرین کا بہشت میں داخل ہونا ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ بہشت وہ مقام ہے جس میں انواع اقسام کی جسمانی نعماء بھی ہوں گی اور طرح طرح کے میوے ہوں گے اور بہشت میں داخل ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ نعمتیں کھاوے اس صورت میں صرف روح کا بہشت میں داخل ہونا بے معنی اور بے سود ہے کیا وہ بہشت میں داخل ہو کر ایک محروم کی طرح بیٹھی رہے گی اور بہشت کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھائے گی پس آیت وَادْخُلِی جَنَّتِي صاف بتلا رہی ہے کہ مومن کو مرنے کے بعد ایک جسم ملتا ہے اسی وجہ سے تمام آئمہ اور اکابر متصوفین اس بات کے قائل ہیں کہ مومن جو طیب اور مطہر ہوتے ہیں وہ بمجرد فوت ہونے کے ایک پاک اور نورانی جسم پاتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ نعماء جنت سے لذت اٹھاتے ہیں اور بہشت کو صرف