تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة الفجر رب کی طرف واپس آجا۔پس کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ مع جسم عنصری آجا۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۵) ہر ایک ذی علم جانتا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے کہ جب مومن فوت ہوتا ہے اس کی روح خدا کی طرف جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتی یعنی اے روحِ اطمینان یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلی آ۔وہ مجھے سے راضی اور تو اس سے راضی۔اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۴۱ حاشیه ) ہو جا۔قرآن شریف اور احادیث کی تنتبع سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رفع الی اللہ جورَ فَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء :۱۵۹) کے فقرہ سے ظاہر ہے بجز موت کی حالت کے کسی حالت کی نسبت بولا نہیں جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِی جلتی۔یعنی اے نفس مطمئنہ جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ اس حالت میں کہ خدا تجھ سے راضی اور تو خدا سے راضی اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔اب ظاہر ہے کہ یہ مقولہ اللہ جل شانہ کا کہ خدا کی طرف واپس چلا آ۔کوئی اہل اسلام میں سے اس کے یہ معنے نہیں کرتا کہ زندہ مع جسم عصری آسمان پر جابیٹے بلکہ آیت ارجعی الی ربک کے معنے موت ہی لئے جاتے ہیں۔پس جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف واپس جانا بموجب نص صریح قرآن شریف کے موت ہے تو پھر خدا کی طرف اُٹھائے جانا جیسا کہ آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ الَیهِ سے ظاہر ہوتا ہے۔کیوں موت نہیں۔یہ تو انصاف اور عقل اور تقومی کے برخلاف ہے کہ جو معنے نصوص قرآنیہ سے ثابت اور متحقق ہوتے ہیں ان کو ترک کیا جائے اور جن معنوں اور جس محاورہ کی اپنے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اس پہلو کو اختیار کیا جائے۔کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ رفع الی اللہ کے زبان عرب اور محاورہ عرب میں بجز وفات دیئے جانے سے کوئی اور بھی معنے ہیں۔ہاں اس وفات سے ایسی وفات مراد ہے جس کے بعد روح خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے جیسے مومنوں کی وفات ہوتی ہے۔یہی محاورہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں موجود ہے۔اور آیت ممدوحہ بالا میں جو فرمایا ہے فَادْخُلی فی عبدی جس کے معنے پہلے فقرہ کے ساتھ ملانے سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف واپس آجا اور پھر خدا کے بندوں میں داخل ہوجا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی شخص