تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 237
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة الفجر اُٹھایا گیا ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہو گا۔یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے راستباز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اُن کا گوشت اور پوست اور اُن کی ہڈیاں خدائے تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۶ ۲۴۷) واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہو جانا۔خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارجعي إلى ربك اور یہ کہنا کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ (ال عمران : ۵۶) ایک ہی معنے رکھتا ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۴) حضرت مسیح ابن مریم جس کی روح اُٹھائی گئی برطبق آیت کریمہ ايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَيْكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنّتی بہشت میں داخل ہو چکی۔اب کیوں کر پھر اس غمکدہ میں آجائیں گو اس کو ہم نے مانا کہ وہ کامل درجہ دخول بہشت کا جو جسمانی اور روحانی دونوں طور پر ہوگا وہ حشر اجساد کے بعد ہر یک مستحق کو عطا کیا جائے گا مگر اب بھی جس قدر بہشت کی لذات عطا ہو چکیں اس سے مقرب لوگ باہر نہیں کئے جاتے اور قیامت کے دن میں بحضور رب العالمین اُن کا حاضر ہونا اُن کو بہشت سے نہیں نکالتا کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی یا لوہے یا چاندی کا تخت بچھایا جائے گا اور خدائے تعالیٰ مجازی حکام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اُس کے حضور میں حاضر ہونا ہو گا۔تا یہ اعتراض لازم آوے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت ربّ العالمین بچھایا گیا ہے حاضر ہونا پڑے گا۔ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اور تخت رب العالمین کے قائل ہیں لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ اور رسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہو گا لیکن ایسے پاک طور پر کہ جو خدائے تعالیٰ کے تقدس اور تنزہ اور اس کی تمام صفات کا ملہ کے منافی ومغائر نہ ہو۔بہشت تجلی کا حق ہے یہ کیوں کر کہ سکیں کہ اُس دن خدائے تعالیٰ ایک مجسم شخص کی طرح بہشت سے باہر اپنا خیمہ یا یوں کہو کہ اپنا تخت بچھوا دے گا بلکہ حق یہ ہے کہ اس دن بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں لیکن رحم الہی کی تجلی عظمی راستبازوں اور ایمانداروں پر ایک جدید طور سے لذات کاملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کارتی اور جسمانی طور پر ان کو دکھلا کر اُس نئے طور پر کے دار السلام میں ان کو داخل کر دے گی۔ایسا ہی