تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 236

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۶ سورة الفجر عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي قرآن شریف میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ ہر ایک مومن جو فوت ہوتا ہے تو اس کی روح خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور بہشت میں داخل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جلَّشَاءُہ فرماتا ہے يَايَتُهَا النَّفْسُ المُطْمَينَةُ ارْجِعِى إِلى رَبّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ فَادْخُلَى فِي عَبْدِي وَادْخُلی جنتی اے نفس جو خدائے تعالی سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف چلا آ۔تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں اندر آ۔اس جگہ صاحب تفسیر معالم اس آیت کی تفسیر کر کے اپنی کتاب کے صفحہ ۹۷۵ میں لکھتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بندہ مومن وفات پانے پر ہوتا ہے تو اس کی طرف اللہ جل شانہ دوفرشتے بھیجتا ہے اور اُن کے ساتھ کچھ بہشت کا تحفہ بھی بھیجتا ہے اور وہ فرشتے آکر اس کی روح کو کہتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ تو روح اور ریحان اور اپنے رب کی طرف جو تجھے سے راضی ہے نکل آ۔تب وہ روح مشک کی اس خوشبو کی طرح جو بہت لطیف اور خوش کرنے والی ہو جو ناک میں پہنچ کر دماغ کو معطر کر دیتی ہو باہر نکل آتی ہے اور فرشتے آسمان کے کناروں پر کہتے ہیں کہ ایک روح چلی آتی ہے جو بہت پاکیزہ اور خوشبودار ہے۔تب آسمان کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہوتا جو اس کے لئے کھولا نہ جائے اور کوئی فرشتہ آسمان کا نہیں ہوتا کہ اُس کے لئے دعا نہ کرے یہاں تک کہ وہ روح پایۂ عرش الہی تک پہنچ جاتی ہے تب خدائے تعالی کو سجدہ کرتی ہے پھر میکائیل کو حکم ہوتا ہے کہ جہاں اور روحیں ہیں وہیں اس کو بھی لے جا۔اب قرآن شریف کی اس آیت اور حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ روح مومن کی اُس کے فوت ہونے کے بعد بلا توقف آسمان پر پہنچائی جاتی ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) خدائے تعالی نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مرجاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھا لیا ہے جیسا کہ آیت ارجعي إلى ربّك اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔خدائے تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا پھر کیوں کر کہا جائے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف