تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 234

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة الغاشية واقف ہو۔پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔گویا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِيلِ کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جا رہے ہوں اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔غافل نہیں ہوتا۔پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے طیار اور محتاط رہنا چاہیے اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔فَإِن خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى أَفَلَا يَنْظُرُونَ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے اتباع کا سبق ملتا ہے کہ جس طرح پر اونٹ میں تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے اور ان میں اتباع امام کی قوت ہے اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام اپنا شعار بناوے کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔كَيْفَ خُلِقَت میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو ابل کی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۰ء صفحه ۵،۴) وس فذكر إِنَّمَا انْتَ مُذَكِرْن لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ فقد توصرف نصیحت دہندہ ہے ان پر داروغہ نہیں۔0 ( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳)