تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 233
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۳۳ سورة الغاشية بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الغاشية بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ أفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ) میرے دعویٰ کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعوئی کو سمجھ لے گا نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جاوے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہوسکتا۔پھر فرمایا قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِيلِ كَيْفَ خُلِقَتْ یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے ابل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے اس میں کیا سر ہے؟ کیوں اتی الجمل بھی تو ہو سکتا تھا ؟ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمل ایک اونٹ کو کہتے اور اہل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالی کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا اس لئے اہل کے لفظ کو پسند فرمایا۔اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوت رکھی ہے۔دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیش رو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے