تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 210
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الطارق خدمات میں لگے ہوئے ہیں اور طرح طرح کے جسمانی نقصانوں اور حرجوں اور تکلیفوں اور تنگیوں سے بچاتے ہیں اور اُس کے جسم اور جسمانی قومی کے کل مایحتاج کو طیار کرتے ہیں خاص کر رات کے وقت جو ستارے پیدا ہوتے ہیں جنگلوں اور بیابانوں میں چلنے والے اور سمندروں کی سیر کرنے والے اُن چمکدار ستاروں سے بڑا ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اور اندھیری رات کے وقت میں ہر یک نجم ثاقب رہنمائی کر کے جان کی حفاظت کرتا ہے اور اگر یہ محافظ نہ ہوں جو اپنے اپنے وقت میں شرط حفاظت بجالا رہے ہیں تو انسان ایک طرفه العین کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکے سوچ کر جواب دینا چاہئے کہ کیا ہم بغیر ان تمام محافظوں کے کہ کوئی ہمارے لئے حرارت مطلوبہ طیار رکھتا ہے اور کوئی اناج اور پھل پکاتا ہے اور کوئی ہمارے پینے کے لئے پانیوں کو برساتا ہے اور کوئی ہمیں روشنی بخشتا ہے اور کوئی ہمارے تنفس کے سلسلہ کو قائم رکھتا ہے اور کوئی ہماری قوت شنوائی کو مدد دیتا ہے اور کوئی ہماری حرارت غریزی پر صحت کا اثر ڈالتا ہے زندہ رہ سکتے ہیں۔اب اسی سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس خداوند کریم و حکیم نے یہ ہزار ہا اجرام سماوی و عناصر وغیرہ ہمارے اجسام کی درستی اور قائمی کے لئے پیدا کئے اور دن رات بلکہ ہر دم اُن کو خدمت میں لگا دیا ہے کیا وہ ہماری روحانی حفاظت کے انتظام سے غافل رہ سکتا تھا۔اور کیوں کر ہم اُس کریم و رحیم کی نسبت قطن کر سکتے ہیں کہ ہمارے جسم کی حفاظت کے لئے تو اُس نے اس قدر سامان پیدا کر دیا کہ ایک جہان ہمارے لئے خادم بنا دیا لیکن ہماری روحانی حفاظت کے لئے کچھ بندوبست نہ فرمایا۔اب اگر ہم انصاف سے سوچنے والے ہوں تو اسی سے ایک محکم دلیل مل سکتی ہے کہ بیشک روحانی حفاظت کے لئے بھی حکیم مطلق نے کوئی ایسا انتظام مقرر کیا ہو گا کہ جو جسمانی انتظام سے مشابہ ہو گا سو وہ ملا یک کا حفاظت کے لئے مقرر کرنا ہے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے یہ قسم آسمان اور ستاروں کی کھائی تاملا یک کی حفاظت کے مسئلہ کو جو ایک مخفی اور نظری مسئلہ ہے نجوم وغیرہ کی حفاظت کے انتظام سے جو ایک بدیہی امر ہے بخوبی کھول دیوے اور ملا یک کے وجود کے ماننے کے لئے غور کرنے والوں کے آگے اپنے ظاہر انتظام کو رکھ دیوے جو جسمانی انتظام ہے تا عقلِ سلیم جسمانی انتظام کو دیکھ کر اسی نمونہ پر روحانی انتظام کو بھی سمجھ لیوے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۴ تا۱۰۲) اگر چہ ملائک جسمانی آفات سے بھی بچاتے ہیں لیکن اُن کا بچانا روحانی طور پر ہی ہے مثلا ایک شخص ایک