تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 209

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة الطارق ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کچھ اُس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔سو در حقیقت خدا تعالیٰ کی اس قسم کی قسمیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں بہت سے اسرار معرفت سے بھری ہوئی ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔قسم کی طرز پر ان اسرار کا بیان کرنا محض اس غرض سے ہے کہ قسم در حقیقت ایک قسم کی شہادت ہے جو شاہد رویت کے قائم مقام ہو جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض افعال بھی بعض دوسرے افعال کے لئے بطور شاہد کے واقعہ ہوئے ہیں سو اللہ تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانونِ قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔تا قانون قدرت جو خدا تعالیٰ کی ایک فعلی کتاب ہے اس کی قولی کتاب پر شاہد ہو جائے اور تا اس کے قول اور فعل کی باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ ایک عام طریق اللہ جل شانہ کا قرآن کریم میں ہے کہ اپنے افعال قدرتیہ کو جو اُس کی مخلوقات میں باقاعدہ منضبط اور مترتب پائے جاتے ہیں اقوال شرعیہ کے حل کرنے کے لئے جا بجا پیش کرتا ہے تا اس بات کی طرف لوگوں کو توجہ دلاوے کہ یہ شریعت اور یہ تعلیم اُسی ذات واحد لاشریک کی طرف سے ہے جس کے ایسے افعال موجود ہیں جو اُس کے ان اقوال سے مطابقت کلّی رکھتے ہیں کیونکہ اقوال کا افعال سے مطابق آجانا بلاشبہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ جس کے یہ افعال ہیں اُسی کے یہ اقوال ہیں۔اب ہم نمونہ کے طور پر اُن چند قسموں کی تفسیر لکھتے ہیں جو قرآن کریم میں وارد ہیں۔چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہی قسم ہے کہ وَ السَّمَاءِ وَالفَارِقِ وَمَا أَدْراكَ مَا الكَارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِبُ إِن كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حافظ۔ان آیات میں اصل مدعا اور مقصد یہ ہے کہ ہر یک نفس کی روحانی حفاظت کے لئے ملائک مقرر ہیں جو ہر دم اور ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور جو حفاظت کا طالب ہو اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔لیکن یہ بیان ایک باریک اور نظری ہے۔فرشتوں کا وجود ہی غیر مرئی ہے۔پھر اُن کی حفاظت پر کیوں کر یقین آوے اس لئے خداوند کریم وحکیم نے اپنے قانون قدرت کو جو اجرام سماوی میں پایا جاتا ہے۔اس جگہ قسم کے پیرا یہ میں بطور شاہد کے پیش کیا اور وہ یہ ہے کہ قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کا صاف اور صریح طور پر نظر آتا ہے کہ آسمان اور جو کچھ کو اکب اور شمس اور قمر اور جو کچھ اُس کے پول میں ہوا وغیرہ موجود ہے یہ سب انسان کے لئے جسمانی