تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة الطارق لینے سے کچھ اعتراض ہے تو وہی اعتراض۔سورج اور چاند اور کواکب اور نباتات اور جمادات اور عناصر سے خدمت لینے میں پیدا ہوتا ہے۔جو شخص معرفت کا کچھ حصہ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ہر یک ذرہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق کام کر رہا ہے اور ایک قطرہ پانی کا جو ہمارے اندر جاتا ہے وہ بھی بغیر اذنِ الہی کے کوئی تاثیر موافق یا مخالف ہمارے بدن پر ڈال نہیں سکتا پس تمام ذرات اور سیارات وغیرہ در حقیقت ایک قسم کے فرشتے ہیں جو دن رات خدمت میں مشغول ہیں کوئی انسان کے جسم کی خدمت میں مشغول ہے اور کوئی روح کی خدمت میں اور جس حکیم مطلق نے انسان کی جسمانی تربیت کے لیے بہت سے اسباب کا توسط پسند کیا اور اپنی طرف سے بہت سے جسمانی مؤثرات پیدا کئے تا انسان کے جسم پر انواع اقسام کے طریقوں سے تاثیر ڈالیں۔اسی وحدہ لاشریک نے جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے یہ بھی پسند کیا کہ انسان کی روحانی تربیت بھی اسی نظام اور طریق سے ہو کہ جو جسم کی تربیت میں اختیار کیا گیا تا وہ دونوں نظام ظاہری و باطنی اور روحانی اور جسمانی اپنے تناسب اور یک رنگی کی وجہ سے صانع واحد مد تبر بالا رادہ پر دلالت کریں۔پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کے لیے بھی فرشتے وسائکا مقرر کئے گئے مگر یہ تمام وسائط خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک گل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف۔جس طرح ہوا خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے باہر آتی ہے اور اسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے یہی صورت اور بتمامہ یہی حال فرشتوں کا ہے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔پنڈت دیانند نے جو فرشتوں کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے کاش پنڈت صاحب کو خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور روحانی کا علم ہوتا۔تا بجائے اعتراض کرنے کے کمالات تعلیم قرآنی کے قائل ہو جاتے کہ کیسی قانون قدرت کی صحیح اور سچی تصویر اس میں موجود ہے۔از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم کے بعض اشارات اور ایسا ہی بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایام میں جبرائیل کے اترنے میں کسی قدر توقف بھی وقوع میں آئی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت میں یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ بعض اوقات کئی دن تک جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوا۔اگر حضرت جبرائیل ہمیشہ اور ہر وقت قرین دائمی آنحضرت صلعم تھے اور روح القدس کا اثر ہمیشہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر جاری و ساری تھا تو پھر توقف نزول کے کیا معنی ہیں اما الجواب پس واضح ہو کہ ایسا خیال کرنا کہ روح القدس بھی انبیاء کو خالی چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتا ہے صرف