تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 205
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الطارق سے ہی اس کی فطرت سے مسلوب ہے تو پھر بدی سے بچنے کا اس کو ثواب کس استحقاق سے ملے مثلاً ایک شخص ابتدا سے ہی نامرد ہے جو عورت کی کچھ خواہش نہیں رکھتا اب اگر وہ ایک مجلس میں یہ بیان کرے کہ میں فلاں وقت جو ان عورتوں کے ایک گروہ میں رہا جو خوبصورت بھی تھیں مگر میں ایسا پر ہیز گار ہوں کہ میں نے ان کو شہوت کی نظر سے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا تو کچھ شک نہیں کہ سب لوگ اس کے اس بیان پر ہنسیں گے اور طنز سے کہیں گے کہ اے نادان کب اور کس وقت تجھ میں یہ قوت موجود تھی تا اس کے روکنے پر تو فخر کر سکتا یا کسی ثواب کی امید رکھتا۔پس جاننا چاہئے کہ سالک کو اپنے ابتدائی اور درمیانی حالات میں تمام امید میں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں اور ان منازل سلوک میں جن امور میں فطرت امیدیں ہی سالک کی ایسی واقع ہو کہ اس قسم کی بدی وہ کر ہی نہیں سکتا تو اس قسم کے ثواب کا بھی وہ مستحق نہیں ہو سکتا۔مثلاً ہم بچھو اور سانپ کی طرح اپنے وجود میں ایک ایسی زہر نہیں رکھتے جس کے ذریعہ سے ہم کسی کو اس قسم کی ایذا پہنچاسکیں جو کہ سانپ اور بچھو پہنچاتے ہیں۔سو ہم اس قسم کی ترک بدی میں عند اللہ کسی ثواب کے مستحق بھی نہیں۔اب اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مخالفانہ جذبات جو انسان میں پیدا ہو کر انسان کو بدی کی طرف کھینچتے ہیں درحقیقت وہی انسان کے ثواب کا بھی موجب ہیں کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ان مخالفانہ جذبات کو چھوڑ دیتا ہے تو عند اللہ بلاشبہ تعریف کے لائق ٹھہر جاتا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے۔لیکن جو شخص انتہائی مقام کو پہنچ گیا ہے اُس میں مخالفانہ جذبات نہیں رہتے گویا اُس کا جن مسلمان ہو جاتا ہے مگر ثواب باقی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ابتلا کے منازل کو بڑی مردانگی کے ساتھ طے کر چکا ہے جیسے ایک صالح آدمی جس نے بڑے بڑے نیک کام اپنی جوانی میں کئے ہیں اپنی پیرانہ سالی میں بھی اُن کا ثواب پاتا ہے۔از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ خدا تعالیٰ کو فرشتوں سے کام لینے کی کیا حاجت ہے کیا اس کی بادشاہی بھی انسانی سلطنتوں کی طرح عملہ کی محتاج ہے اور اس کو بھی فوجوں کی حاجت تھی جیسے انسان کو حاجت ہے۔اما الجواب پس واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں نہ فرشتوں کی نہ آفتاب کی نہ ماہتاب کی نہ ستاروں کی لیکن اسی طرح اس نے چاہا کہ تا اس کی قدرتیں اسباب کے توسط سے ظاہر ہوں اور تا اس طرز سے انسانوں میں حکمت اور علم پھیلے۔اگر اسباب کا توسط درمیان نہ ہوتا تو نہ دنیا میں علم ہیئت ہوتا نہ نجوم نہ طبعی نہ طبابت نہ علم نباتات یہ اسباب ہی ہیں جن سے علم پیدا ہوئے۔تم سوچ کر دیکھو کہ اگر فرشتوں سے خدمت نہ۔