تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة التكوير موجود ہے صادق آئے گی یعنی یہ کہ لَی تَرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا یعنی مسیح کے وقت میں اونٹ بریکار کئے جائیں گے اور کوئی ان پر سفر نہیں کرے گا۔( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶) ایک نئی سواری جس کی طرف قرآن شریف اور حدیثوں میں اشارہ تھا وہ بھی ظہور میں آگئی یعنی سواری ریل جو اونٹوں کے قائم مقام ہو گئی جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَت یعنی وہ آخری زمانہ جب اونٹنیاں بیکار کی جائیں گی اور جیسا کہ حدیث مسلم میں مسیح موعود کے ظہور کے علامات میں سے ہے وَلَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْغى عَلَيْهَا یعنی تب اونٹنیاں بیکا ر ہو جائیں گی اور ان پر کوئی سوار نہ ہوگا سو ظا ہر ہے کہ وہ زمانہ آ گیا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۵۸) چوتھا نشان ایک نئی سواری کا نکلنا ہے جو مسیح موعود کے ظہور کی خاص نشانی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطلت یعنی آخری زمانہ وہ ہے جب اونٹیاں بیکار ہو جائیں گی اور ایسا ہی حدیث مسلم میں ہے وَلَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور کوئی ان پر سفر نہیں کرے گا۔ایام حج میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اونٹنیوں پر سفر ہوتا ہے۔اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لیے ریل طیار ہو جائے گی تب اس سفر پر یہ صادق آئے گا کہ لیتر گن الْقِلاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا۔۔۔۔چھٹا نشان کتابوں اور نوشتوں کا بکثرت شائع ہونا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔۔۔۔آٹھواں نشان نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا ہے جیسا کہ آیت وَاِذَا النُّفُوسُ زُوجَتُ سے ظاہر ہے سو بذریعہ ریل اور تار کے یہ امر ایسا ظہور میں آیا کہ گویا دنیا بدل گئی ہے۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۶) حقیقت میں یہ ریلوے مسیح موعود کا ایک نشان ہے۔قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے واذا الْعِشَارُ عُطِلَتُ۔۔۔۔۔۔یہ لوگ اگر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ لیتر كن الخلاص میں ریل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر اس سے ریل مراد نہیں تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ حادثہ بتائیں جس سے اونٹ ترک کئے جاویں