تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 170

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۰ سورة التكوير جانتا ہے کہ اونٹ اہل عرب کا بہت پرانا رفیق ہے اور عربی زبان میں ہزار کے قریب اونٹ کا نام ہے اور اونٹ سے اس قدر قدیم تعلقات اہل عرب کے پائے جاتے ہیں کہ میرے خیال میں ہیں ہزار کے قریب عربی زبان میں ایسا شعر ہو گا جس میں اونٹ کا ذکر ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ کسی پیشگوئی میں اونٹوں کے ایسے انقلاب عظیم کا ذکر کرنا اس سے بڑھ کر اہل عرب کے دلوں پر اثر ڈالنے کے لئے اور پیشگوئی کی عظمت اُن کی طبیعتوں میں بٹھانے کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔اسی وجہ سے یہ عظیم الشان پیشگوئی قرآن شریف میں ذکر کی گئی ہے جس سے ہر ایک مومن کو خوشی سے اُچھلنا چاہئے کہ خدا نے قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت جو مسیح موعود اور یا جوج ماجوج اور دجال کا زمانہ ہے یہ خبر دی ہے کہ اُس زمانہ میں یہ رفیق قدیم عرب کا یعنی اونٹ جس پر وہ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے اور بلاد شام کی طرف تجارت کرتے تھے ہمیشہ کے لئے اُن سے الگ ہو جائے گا۔سبحان اللہ ! کس قدر روشن پیشگوئی ہے یہاں تک کہ دل چاہتا ہے کہ خوشی سے نعرے ماریں کیونکہ ہماری پیاری کتاب اللہ قرآن شریف کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ ایک ایسا نشان دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے کہ نہ توریت میں ایسی بزرگ اور کھلی کھلی پیشگوئی پائی جاتی ہے اور نہ انجیل میں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب میں۔ہندؤوں کے ایک پنڈت دیانند نام نے ناحق فضولی کے طور پر کہا تھا کہ وید میں ریل کا ذکر ہے۔یعنی پہلے زمانہ میں آریہ ورت (ملک ہند) میں ریل جاری تھی مگر جب ثبوت مانگا گیا تو بجز بیہودہ باتوں کے اور کچھ جواب نہ تھا۔اور دیا نند کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وید میں پیشگوئی کے طور پر ریل کا ذکر ہے کیونکہ دیا نند اس بات کا معترف ہے کہ وید میں کوئی پیشگوئی نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ ہندؤوں کے عہد سلطنت میں بھی یورپ کے فلاسفروں کی طرح ایسے کاریگر موجود تھے اور اُس زمانہ میں بھی ریل موجود تھی یعنی ہمارے بزرگ بھی انگریزوں کی طرح کئی صنعتیں ایجاد کرتے تھے لیکن قرآن شریف یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی زمانہ میں ملک عرب میں ریل موجود تھی بلکہ آخری زمانہ کے لئے ایک عظیم الشان پیشگوئی کرتا ہے کہ اُن دنوں میں ایک بڑا انقلاب ظہور میں آئے گا اور اونٹوں کی سواری بیکار ہو جائے گی اور ایک نئی سواری دنیا میں پیدا ہو جائیگی جو اونٹوں سے مستغنی کر دے گی۔یہ پیشگوئی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حدیث مسلم میں بھی موجود ہے جو مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشگوئی کو قرآن شریف کی اس آیت سے ہی استنباط کیا ہے یعنی وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ سے۔یادر ہے کہ قرآن شریف میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں ایک قیامت کی اور ایک