تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 98

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ سورة المزمل میرے نزدیک رؤیا میں یہ بتانا کہ تجمل کے معنے مجھے سے دریافت کئے جاویں اس سے یہ مراد ہے کہ جو میرا مذہب اس بارہ میں ہے وہ اختیار کیا جاوے۔منطقیوں یا نحویوں کی طرح معنے کرنا نہیں ہوتا بلکہ حال کے موافق معنے کرنے چاہئیں۔ہمارے نزدیک اس وقت کسی کو متقبل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضا کو دنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدم کرلے۔کوئی رسم و عادت کوئی قومی اصول اس کا رہزن نہ ہو سکے، نہ نفس رہزن ہو سکے، نہ بھائی ، نہ جو رو، نہ بیٹا ، نہ باپ۔غرض کوئی شے اور کوئی متنفس اس کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لا سکے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کو کھو دے کہ اس پر فنائے اتم طاری ہو جاوے اور اس کی ساری خواہشوں اور ارادوں پر ایک موت وارد ہو کر خدا ہی خدارہ جاوے۔دنیا کے تعلقات بسا اوقات خطرناک رہنرن ہو جاتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کی رہزن حضرت حوا ہو گئی۔پس مقتل تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک سکر اور فنا انسان پر وارد ہو مگر نہ ایسی کہ وہ اسے خدا سے گم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔غرض عملی طور پر تل کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے جبکہ ساری روکیں دور ہو جائیں اور ہر ایک قسم کے حجاب دور ہو کر محبت ذاتی تک انسان کا رابطہ پہنچ جاوے اور فناء اتم ایسی حاصل ہو جاوے۔قیل وقال کے طور پر تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور انسانی الفاظ اور بیان میں بہت کچھ ظاہر کر سکتا ہے مگر مشکل ہے تو یہ کہ عملی طور پر اسے دکھا بھی دے جو کچھ وہ کہتا ہے۔یوں تو ہر ایک جو خدا کو مانے والا ہے پسند بھی کرتا ہے۔اور کہہ بھی دیتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کو سب پر مقدم کروں اور مقدم کرنے کا مدعی بھی ہو سکتا ہے لیکن جب ان آثار اور علامات کا معائنہ کرنا چاہیں جو خدا کو مقدم کرنے کے ساتھ ہی عطا ہوتے ہیں تو ایک مشکل کا سامنا ہو گا۔بات بات پر انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جب اس مال اور جان کے دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ ان سے ان کی جانوں اور مالوں یا اور عزیز ترین اشیاء کی قربانی چاہتا ہے حالانکہ وہ اشیاء ان کی اپنی بھی نہیں ہوتی ہیں۔لیکن پھر بھی وہ مضائقہ کرتے۔ابتداء بعض صحابہ کو اس قسم کا ابتلاء پیش آیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بناء مسجد کے واسطے زمین کی ضرورت تھی ایک شخص سے زمین مانگی تو اس نے کئی عذر کر کے بتادیا کہ میں زمین نہیں دے سکتا۔اب وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا اور اللہ اور اس کے رسول کو سب پر مقدم کرنے کا عہد اس نے کیا تھا لیکن جب آزمائش اور امتحان کا وقت آیا تو اس کو پیچھے ہٹنا پڑا گو آخر کار اس نے وہ قطعہ دے دیا۔تو بات اصل میں یہی ہے کہ کوئی امر محض