تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 95

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة الجن غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لا يُظهرُ عَلی غَيْبِهِ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رسُول۔اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کی رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے۔وَ مَنِ ادَّعَى فَقَدْ كَفَرَ۔اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النہین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا کم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اس کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر عمبر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۲۵،۵۲۴)