تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 94

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة الجن ہیں اس لیے تقویٰ اور طہارت کی بہت ضرورت ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴۲) آج قرآن شریف کی آیت شریفہ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ سے مجھے ایک نکتہ خیال میں آیا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس کے غیب کا اظہار سوائے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی پر نہیں ہوتا۔اس میں سوچنے کے لائق لفظ اظہار ہے اظہار سے مراد یہ ہے کہ کھلا کھلا غیب کثرت کے ساتھ کسی پر کھولا جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف متشابہات کے طور پر تھوڑا سا غیب تو گاہے گاہے کسی دوسرے پر بھی کھولا جاتا ہے۔مگر اس میں محکم بات نہیں ہوتی اور اس کے واسطے شرط نہیں کہ جس پر کھولا جائے وہ مومن ہو یا کافر ہو۔ہر ایک مذہب کے آدمی کو یہ حالت گا ہے حاصل ہوسکتی ہے کہ کوئی تھوڑی سی بات مشتبہ یا غیر مشتبہ اس کو غیب سے مل جائے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن منع صرف اظہار علی الغیب کی ہے۔اظہار کا لفظ اس کی کیفیت اور کمیت پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ غیب کی خبر مصفی ہو۔شک اور شبہ سے پاک ہو اور دوسرا کثرت سے ہو جس سے ظاہر ہو کہ یہ خارق عادت اور معجزہ نما ہے۔اس آیت سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ رسولوں کے سوائے دوسرے لوگوں کو بھی غیب کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے مگر ان کے غیب میں اظہار کا رنگ نہیں ہوتا۔اظہار کا لفظ ایک خاص امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔(البدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۶ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۳) لوگوں کی خوابوں اور انبیاء کے الہامات ، مکالمات اور مخاطبات میں ایک ما بہ الامتیاز ہوتا ہے انبیاء کی وحی اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے۔اس میں ایک شوکت اور جلال ورعب ہوتا ہے۔انبیاء کی وحی کیا بلحاظ کیفیت اور کیا بلحاظ کمیت عام لوگوں سے بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔اور وہ ان کی کامیابی اور ان کے دشمنوں کی نامرادی پر مبنی ہوتی ہے۔انبیاء کی وحی غیب پر مشتمل ہوتی ہے۔لَا يُظهِرُ عَلى غَيْبَةٍ اَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ غرض انبیاء کی وحی میں کسی انسان کو کسی طرح کا اشتراک نہیں ہوتا۔جنسیت کے لحاظ سے جو اشتراک رکھا گیا ہے وہ بھی صرف اس واسطے کہ تا انسان کو انبیاء کی پاک وحی پر ایمان لانے میں مدد دے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ تو انبیاء کی وحی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۴) نبی کے معنے لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر