تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 42
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲ سورة ص وَأَقْرَبَ إِلى اللهِ الْأَغْلى، وَأَعْلَمَ وَأَفْضَلَ مِنْ کا مظہر بنا اور خدائے غنی سے بہت قریب ہوا اور الْمَلائِكَةِ أَجْمَعِينَ، وَخَلِيفَةَ اللهِ عَلَى الْأَرْضِينَ افضل ٹھہرا۔اور خدا تعالیٰ کا خلیفہ بنا۔(نور الحق حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۳۶،۱۳۵) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے ) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو تم اُس کے لئے سجدہ میں گرو یعنی کمال انکسار سے اُس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ اور ایسی خدمت گزاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان، جو اس سعادت سے محروم رہ گیا۔جاننا چاہیئے کہ یہ سجدہ کا حکم اُس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی۔حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کر و یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اتر و اور اُس پر صلوۃ بھیجو سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اُس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقا باللہ کا درجہ حاصل کرتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اُس پر شروع ہو جاتا ہے اگر چہ سلوک کے ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجالا رہے ہیں۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۷،۷۶) جب میں نے اس کا قالب بنالیا اور تجلیات کے تمام مظاہر درست کر لئے اور اپنی روح اس میں پھونک دی تو تم سب لوگ اس کے لئے زمین پر سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ جب اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس قالب میں وہ روح چمک اٹھتی ہے۔جس کو خدا تعالیٰ اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے۔کیونکہ دنیوی زندگی کے فنا کے بعد وہ قالب تیار ہوتا ہے اس لئے الہی روشنی جو پہلے دھیمی تھی یکدفعہ بھڑک اٹھتی ہے۔اور واجب ہوتا ہے کہ خدا کی ایسی شان کو دیکھ کر ہر ایک سجدہ کرے اور اس