تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 38
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ تو ضرور تمام افترا ہے۔۳۸ سورة ص انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۵) وَخُذُ بِيَدِكَ ضِعْنا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحْنَتْ إِنَّا وَجَدُنْهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ انه آواب (۴۴ محترم اکمل صاحب کے اس استفسار پر کہ اگر مذکورہ آیت کے وہ معنی کئے جائیں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں جیلوں کا باب کھل جائے گا۔حضور نے فرمایا ) چونکہ حضرت ایوب کی بیوی بڑی نیک، خدمت گزار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور ایسی تدبیر سمجھا دی جس سے قسم بھی پوری ہو جائے اور ضرر بھی نہ پہنچے۔اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیونکہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔اس لئے کوئی جرح کی بات نہیں۔( بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۶) وَاذْكُرُ عِبدَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ۴۵ خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف عقل ہی کے عطیہ سے مشرف نہیں فرمایا بلکہ الہام کی روشنی اور نور بھی اس کے ساتھ مرحمت فرمایا ہے انہیں ان راہوں پر نہیں چلنا چاہیے جو خشک منطقی اور فلاسفر چلانا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں پر لسانی قوت غالب ہوتی ہے اور رُوحانی قومی بہت ضعیف ہوتے ہیں۔دیکھو قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کی تعریف میں اُولی الابدانی وَ الْأَبْصَارِ فرماتا ہے کہیں أُولِي الْأَلْسِنَةِ نہیں فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو وہی لوگ پسند ہیں جو بصر اور بصیرت سے خدا کے کام اور کلام کو دیکھتے ہیں اور پھر اُس پر عمل کرتے ہیں اور یہ ساری باتیں بجز تزکیہ نفس اور تطہیر قوائے باطنیہ کے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۳) اگر چہ فیصلہ دعاؤں سے ہی ہونے والا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دلائل کو چھوڑ دیا جاوے نہیں دلائل کا سلسلہ بھی برابر رکھنا چاہیے اور قلم کو روکنا نہیں چاہیے۔نبیوں کو خدا تعالیٰ نے اس لئے أُولي الأبدانی و الابصارِ کہا ہے کیونکہ وہ ہاتھوں سے کام لیتے ہیں۔پس چاہیے کہ تمہارے ہاتھ اور قلم نہ رکیں اس سے ثواب ہوتا ہے۔جہاں تک بیان اور لسان سے کام لے سکو کام لئے جاؤ اور جو جو باتیں تائید دین کے لئے