تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 30

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰ سورة الشفت سب لوگ صرف شیطان کے پنجہ میں چھوڑے گئے ہاں انبیاء پر روح القدس نازل ہوتا ہے مگر وہ بھی صرف ایک دم یا بہت ہی تھوڑے عرصہ کے لئے اور پھر آسمان پر جبرائیل چڑھ جاتا ہے اور ان کو خالی چھوڑ دیتا ہے بلکہ بسا اوقات چالیس چالیس روز بلکہ اس سے بھی زیادہ روح القدس یا یوں کہو کہ جبرائیل کی ملاقات سے انبیاء محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین جو شیطان ہے وہ تو نعوذ باللہ اُن کا ساتھ ایک دم بھی نہیں چھوڑتا گو آخر کو مسلمان ہی ہو جائے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ مجوب اور حقائق قرآن کریم سے غافل اور بے نصیب ہیں اور کھلے طور پر ان کا یہ عقیدہ بھی نہیں بلکہ نادانی اور قلت تدبر اور پھر اس عاجز کے ساتھ بخل اور کینہ ورزی کی وجہ سے اس بلا میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اس عاجز کے مقابل پر جن راہوں پر یہ لوگ چلے اُن راہوں میں یہ آفات موجود تھیں اس لئے نادانستہ اُن میں پھنس گئے جیسا کہ ایک پرندہ نادانستہ کسی دانہ کی طمع سے ایک جال میں پھنس جاتا ہے۔بات یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ضرور جبرائیل اور ملک الموت اور دوسرے فرشتے اپنے اصلی وجود کے ساتھ ہی زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر رہ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں۔جب آسمان سے اُترتے ہیں تو آسمان اُن کے وجود سے خالی رہ جاتا ہے اور پھر جب زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتے ہیں تو زمین اُن کے وجود سے خالی رہ جاتی ہے تو صد با اعتراض قرآن اور حدیث اور عقل کے اُن پر وارد ہوئے چنانچہ منجملہ اُن بلاؤں کے جو ان کے اس عقیدہ کے لازم حال ہو گئیں ایک یہ بھی بلا ہے جو خدا تعالیٰ کے روحانی انتظام کا عدل اور رحم جاتا رہا اور کفار اور تمام مخالفین کو اسلام پر یہ اعتراض کرنے کے لئے موقعہ ملا کہ یہ کیسی سخت دلی اور خلاف رحم بات ہے کہ خدا تعالیٰ شیطان اور اُس کی وریت کو انسان کی اغوا کے لئے ہمیشہ اور ہر دم کے لئے اُس کا قرین اور مصاحب مقرر کرے تا وہ اُس کے ایمان کی بیخ کنی کے فکر میں رہیں اور ہر وقت اُس کے خون اور اُس کے دل اور دماغ اور رگ و ریشہ میں اور آنکھوں اور کانوں میں گھس کر طرح طرح کے وساوس ڈالتے رہیں۔اور ہدایت کرنے کا ایسا قرین جو ہر دم انسان کے ساتھ رہ سکے ایک بھی انسان کو نہ دیا جائے۔یہ اعتراض در حقیقت اُن کے عقیدہ مذکورہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ لوگ بموجب آیت وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُومٌ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل اور عزرائیل یعنی ملک الموت کا مقام آسمان پر مقرر ہے جس مقام سے وہ نہ ایک بالشت نیچے اُتر سکتے ہیں نہ ایک بالشت او پر چڑھ سکتے ہیں اور پھر باوجود اس کے اُن کا زمین پر اپنے اصلی وجود کے