تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 23
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة الصفت مَعْنَى التَّعَجُبِ وَالْقَاءِ فَهُنَا لِلْعَظفِ استفہام تقریری کے لئے ہے اور اس میں تعجب کے معنے عَلى مَحْذُوفٍ أَن أَنَحْنُ مُخَلَّدُونَ پائے جاتے ہیں اور فاء یہاں ایک محذوف پر عطف کے مُنْعَمُونَ مَعَ قِلَّةِ أَعْمَالِنَا وَمَا نَحْنُ لئے استعمال ہوا ہے اور اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ہم اپنے يميتينَ وَاعْلَمُ أَنَّ هَذَا سُؤَالُ مِن تھوڑے سے اعمال کے باوجود جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ أَهْلِ الْجَنَّةِ حِينَ يَسْمَعُونَ قَوْلَ اللہ رہیں گے اور ہمیں موت نہیں آئے گی اور تجھے یہ بھی ذہن میں تَعَالَى كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنَيْنا بِمَا كُنتُم رکھنا چاہیے کہ یہ اہل جنت کا اس وقت کا سوال ہے جب تَعْمَلُونَ له كَمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاس وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول سنیں گے كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا ، في تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى هَنِيئًا، فَعِنْدَ كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ يعنى ثم دل کو لبھانے والے میوے کھاؤ اور ذلِكَ يَقُولُونَ أَفَمَا نَحْنُ بِنِتِينَ اِلَّا اچھا پانی ہو یہ تمہارے عملوں کی جزا ہے جیسا کہ حضرت ابن مَوْتَتَنَا الأولى وَاعْلَمُ أَنَّ قَوْلَهُمُ هذا عباس سے اللہ تعالیٰ کے قول ھبیٹا کی تفسیر میں مروی ہے۔يَكُونُ عَلى طَرِيقَةِ الإِبتهاج پر اس موقع پر جنتی کہیں گے آفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ إِلا وَالشَّرُورِ ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ الْإِسْتِغْنَاء مَوْتَتَنَا الأولى - اور جان لے ان کا یہ قول خوشی اور سرور کے هُهُنَا مُفَرَّةٌ وَقِيلَ مُنقَطِع يمغنی طور پر ہوگا۔پھر تمہیں یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ یہاں لكن وَفي كُلّ حَالٍ يَعْبُتُ مِنْ هَذِهِ استثناء مفرغ ہے اور بعض کے نزدیک استثناء منقطع بمعنی الْآيَةِ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُبَرُونَ لكن ہے اور دونوں صورتوں میں اس آیت سے یہ ثابت ہوتا بِالدَّوَامِ وَالخُلْدِ وَيُبَشِّرُونَ بِأَنَّ لَهُمْ ہے کہ اہلِ جنت جنت میں ہمیشہ رہنے کی بشارت پائیں گے لا مَوْتَ إِلَّا مَوْتَعهُمُ الْأُولى۔وَهَذَا اور یہ کہ ان پر سوائے پہلی موت کے اور موت واقع نہیں دَلِيلٌ صَرِيحٌ عَلَى أَنَّ اللهَ مَا جَعَلَ لِأَهْلِ ہوگی۔یہ اس بات پر صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت الْجَنَّةِ مَوْتَيْنِ، بَلْ بَرَهُم بِالْحَيَاةِ کے لئے دو موتیں نہیں بنائیں بلکہ اس نے انہیں اس موت الْأَبَدِيَّةِ بَعْدَ الْمَوْتِ الَّذِي قَدْ قُدِرَ کے بعد جو ہر شخص کے لئے مقدر ہے ابدی حیات کی بشارت لِكَلِ رَجُلٍ وَقَالَ فِي آخِرِ هَذِهِ الْآيَةِ دی ہے۔پھر اس آیت کے آخر میں فرما یا إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ إنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، فَأَشَارَ إِلَى الْعَظِيمُ۔اس حصہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ الطور : ٢٠