تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 403

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ سورة الصف الْمَنَانِ وَكَانَ اللهُ قَد قَدَّرَ أَنَّ دِينَهُ لَا يَظْهَرُ پر زندہ کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے کہ بِظُهُورٍ تَاةٍ عَلَى الْأَدْيَانِ كُلِّهَا وَلَا يُرْزَقُ أَكْثَرُ اس کا دین دوسرے ادیان پر پوری طرح غالب نہیں الْقُلُوبِ دَلَائِلَ الْحَق وَلَا يُعطى تَقْوَى ہوگا اور اکثر قلوب دلائل حقہ نہیں دئے جائیں گے اور الْبَاطِنِ لأَكْثَرِهَا إِلَّا فِي زَمَانِ الْمَسِيحَ نہ ان میں سے اکثر کو باطن کا تقویٰ عطا کیا جائے گا مگر الْمَوْعُودِ وَالْمَهْدِى الْمَعْهُودِ وَأَمَّا الْأَزْمِنَةُ مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ میں۔اس سے الَّتِي هِيَ قَبْلَهُ فَلَا تَعُمُّ فِيهَا التَّقْوَى وَلا پہلے زمانوں میں تقویٰ اور درایت عام نہیں تھا بلکہ فسق الدّرَايَةُ، بَلْ يَكْثُرُ الْفِسْقُ وَالْغَوَايَةُ اور گمراہی زیادہ تھی۔( ترجمہ از مرتب) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۲۱، ۳۲۲) مسیح موعود اسلام کے قمر کا متم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ حلہ کیونکہ اظہار تام اور اتمام نور ایک ہی چیز ہے۔اور یہ قول کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الْأَدْيَانِ كُلَّ الْإِظْهَارِ مساوی اس قول سے ہے کہ لِيُتِمَّ نُورَهُ كُلَّ الإتمام (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۴) مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کرنا اس طرف اشارہ تھا کہ اس کے وقت میں اسلامی معارف اور برکات کمال تک پہنچ جائیں گی۔جیسا کہ آیت ليُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه میں اس کمال نام کی طرف اشارہ ہے۔(تحفہ گولر و بیه، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۰۹ حاشیه ) قرآن شریف جو ذ والوجوہ ہے اُس کا محاورہ اسی طرز پر واقع ہو گیا ہے کہ ایک آیت میں آنحضرت صلی اللہ ہوگا علیہ وسلم مراد اور مصداق ہوتے ہیں اور اسی آیت کا مصداق مسیح موعود بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیت هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدی سے ظاہر ہے۔اور رسول سے مراد اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور مسیح بھی مراد ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۲۱۷) ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہو کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبی کام تھے لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر خلود آپ کے لئے غیر ممکن تھا کہ آپ اُس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھیلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت منصبی کو