تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 386

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۶ سورة الحشر و وام اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہر یک تم میں سے دیکھتا رہے کہ میں نے اگلے جہان میں کون سا مال بھیجا ہے اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی وہ خوب جاننے والا اور پر کھنے والا ہے اس لئے وہ تمہارے کھوٹے اعمال ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۶،۲۲۵) لَو اَنْزَلْنَا هُذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ تَرَاَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَ تِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ یہ قرآن جو تم پر اُتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اُتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہو جا تا اور یہ مثالیں ہم اس لیے بیان کرتے ہیں تا لوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۳ ) ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا۔جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اول تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ا ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر متصدعا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضا مندی کے تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالی کے لئے رہ جائیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰رجون ۱۹۰۱ صفحه ۹)