تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 374

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۷۴ سورة الحديد جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نو ر تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نو ر ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے ہو جاتا ہے۔قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی ہاں فہم اور ادراک حسب مراتب تقوی کم و بیش ہو سکتا ہے اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جو اولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہو جاتے ہیں اور معارف اور دقائق کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ ربانی ان کے رگ وریشہ میں خون کی طرح جاری ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۷ تا ۱۷۹) تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا یعنی نورالہام اور نور اجابت دعا اور نور کرامت اصطفاء۔وَ يَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ فَالنُّورُ | وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ - وه نور الَّذِى هُوَ الْأَمْرُ الْفَارِقُ بَيْنَ خَوَا عِبَادِ جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور دوسرے بندوں اللهِ وَبَيْنَ عِبَادِ اخَرِيْنَ هُوَ الْإِلْهَامُ میں فرق کرنے والا ہے وہ الہام اور کشف اور محمد نیت وَالْكَشْفُ وَالتَّحْدِيثُ وَعُلُومٌ غَامِضَةٌ ہے نیز ایسے گہرے اور دقیق مضامین ہیں جو اللہ تعالیٰ دَقِيقَةٌ تَنْزِلُ عَلَى قُلُوبِ الْخَوَاطِ مِنْ عِنْدِ اللہ کی جانب سے خاص بندوں کے دلوں پر نازل (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه (۲۹۸) ہوتے ہیں۔(ترجمہ از مرتب) ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۶) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَامِنُوا بِرَسُولِه بظاہر تویہ تحصیل حاصل معلوم ہوتی ہوگی لیکن جب حقیقت حال پر غور کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کئی مراتب ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالی تکمیل چاہتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ )