تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 373

سورة الحديد تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کر دو اور دنیوی کا روبار کو چھوڑ دو۔نہیں بلکہ ملازم کو چاہیئے کہ وہ اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجر اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے۔اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں۔پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق برابر ادا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔خدا کے ساتھ تو انسان کا فطرتی تعلق ہے کیونکہ اس کی فطرت خدا تعالیٰ کے حضور میں اگست پر پکھ کے جواب میں قانو ابلی کا اقرار کر چکی ہوئی ہے۔یا درکھو کہ وہ شخص جو کہتا ہے کہ جنگل میں چلا جائے اور اس طرح دنیوی کدورتوں سے بیچ کر خدا کی عبادت اختیار کرے وہ دنیا سے گھبرا کر بھاگتا ہے اور نامردی اختیار کرتا ہے۔دیکھو ریل کا انجمن بے جان ہو کر ہزاروں کو اپنے ساتھ کھینچتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے۔پھر افسوس ہے اس جاندار پر جو اپنے ساتھ کسی کو بھی کھینچ نہیں سکتا۔انسان کو خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی طاقتیں بخشی ہیں۔اس کے اندر طاقتوں کا ایک خزانہ خدا تعالیٰ نے رکھ دیا ہے لیکن وہ کسل کے ساتھ اپنی طاقت کو ضائع کر دیتا ہے اور عورت سے بھی گیا گزرا ہو جاتا ہے۔قاعدہ ہے کہ جن قومی کا استعمال نہ کیا جائے وہ رفتہ رفتہ ضائع ہو جاتے ہیں۔اگر چالیس دن تک کوئی شخص تاریکی میں رہے تو اس کی آنکھوں کا نور جاتارہتا ہے۔البدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴ / مارچ ۱۹۰۷ ء صفحه ۶) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَ آمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَ يَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمُشُونَ بِهِ وَيَغْفِرُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم (۲۹) يَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْمون یه۔۔۔۔۔تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا (یعنی روح القدس ) جو تمہارے ساتھ چلے گا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۷) اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے انتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گاوہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا