تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 5

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ یعنی کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو جا۔سورة يس (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۸،۳۸۷) يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ) اے حسرت بندوں پر کہ ایسا کوئی نبی نہیں آتا جس سے وہ ٹھٹھا نہ کریں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۲) کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ون پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے رو برو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں اس سے کون ٹھٹھا کرے گا۔پس اس دلیل سے بھی منظمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اتر نا محض جھوٹا خیال ہے۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۶، ۶۷) اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا تو یہ نئی بات نہیں۔دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ یعنی بندوں پر افسوس کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۴) کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس سے جاہل آدمیوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔دیکھنا تو یہ چاہیے کہ کیا ٹھٹھا کرنے میں وہ حق بجانب تھے یا محض شیطنت اور شرارت تھی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۵۲) اللہ تعالیٰ نے جو اس میں ما کے ساتھ حصر کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو سچا ہے اس کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھا ضرور کیا جاتا ہے اگر یہ نہ کیا جائے تو خدا کا کلام صادق نہیں ٹھہرتا۔صادق کی یہ بھی ایک نشانی ٹھہری۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۱ صفحه ۶) معاصرت بھی رتبہ کو گھٹا دیتی ہے اس لئے حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کو اہل وطن سے کیا کیا تکلیفیں اور صدمے اٹھانے پڑے تھے۔اور یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنت چلی آتی ہے ہم اس سے الگ کیوں کر ہو سکتے ہیں اس لئے ہم کو جو کچھ اپنے مخالفوں سے سننا پڑا یہ اسی سنت کے موافق ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا