تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 346
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة الرحمن اس کے متلاشی ہوتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو اس میں ان کو ایک قسم کی لذت شروع ہو جاتی ہے اور ان کو وہ روحانی غذائیں ملتی ہیں جو روح کو روشن کرتی اور خدا کی معرفت کو بڑھاتی ہیں۔ملتے ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶/ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۵) چونکہ اس دنیا میں بھی ایک بہشت ہے جو مومن کو دیا جاتا ہے اس کے موافق ایک تبدیلی بھی یہاں ہوتی ہے اس کو اک خاص قسم کا رعب دیا جاتا ہے جو الہی تجلیات کے پرتو سے ملتا ہے نفس امارہ کے جذبات سے اس کو روک دیا جاتا ہے اور نفس مطمئنہ کی سکینت اور اطمینان اس کو ملتا ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔۔۔۔اس کے سارے جوشوں کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ میں ایک راحت اور اطمینان پالیتا ہے اور ایک تبدیلی اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶ ) اس امت پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔اسلام جس بات کو چاہتا ہے وہ اسی جگہ سے اسلام کے ذریعہ سے حاصل ہو جاتی ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن۔خدا کے دیدار کے واسطے اسی جگہ سے حواس (البدرجلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶) جولوگ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں ان کو دو جنت ملتے ہیں۔ہمارے نزدیک اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک جنت تو وہ ہے جو مرنے کے بعد ملتی ہے دوسری جنت اسی دنیا میں عطا ہوتی ہے اور یہی جنت اس دوسری جنت کے ملنے اور عطا ہونے پر بطور گواہ واقعہ ٹھہر جاتی ہے۔ایسا مومن دُنیا میں بہت سے دوزخوں سے رہائی پاتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ ۷ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه (۸) یا درکھو جو خدا کی طرف صدق اور اخلاص سے قدم اُٹھاتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں کئے جاتے ان کو دونوں جہانوں کی نعمتیں دی جاتی ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن اور یہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میری طرف آنے والے دنیا کھو بیٹھے ہیں۔بلکہ ان کے لئے دو بہشت ہیں ایک بهشت تو اسی دنیا میں اور ایک جو آگے ہوگا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔نیکی کرنے کی پاداش نیکی ہے۔اگر ہم صرف مسلمان نیکی کرنے والے سے نیکی کریں اور غیر مذہب والوں سے نیکی نہ کریں تو ہم خدا تعالی کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں کیونکہ اس نے نیکی کی پاداش میں کسی مذہب کی قید نہیں