تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 326

۳۲۶ 19 سورة القمر تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدائے تعالیٰ کی قدرت کبھی درماندہ نہیں ہوتی اور وہ نہیں تھکتا وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (ق : ١٢) أَفَعَبِيْنَا بالْخَلْقِ الْأَوَّلِ (يس: ۸۰) اس کی شان ہے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں اور افعال کا کیسا ہی صاحب عقل اور علم کیوں نہ ہو اندازہ نہیں کر سکتا۔بلکہ اس کو اظہار عجز کرنا پڑتا ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔ڈاکٹر خوب جانتے ہیں۔عبدالکریم نام ایک شخص میرے پاس آیا۔اس کے اندر ایک رسولی تھی۔جو پاخانہ کی طرف بڑھتی جاتی تھی۔ڈاکٹروں نے اسے کہا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے اس کو بندوق مار کر مار دینا چاہئے۔الغرض بہت سے امراض اس قسم کے ہیں جن کی ماہیت ڈاکٹروں کو بخوبی معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاً طاعون یا ہیضہ ایسے امراض ہیں کہ ڈاکٹر کو اگر پلیگ ڈیوٹی پر مقرر کیا جاوے۔تو اسے خود ہی دست لگ جاتے ہیں۔انسان جہاں تک ممکن ہو علم پڑھے اور فلسفہ کی تحقیقات میں محو ہو جاوے۔لیکن بالاخر اس کو معلوم ہو گا کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔حدیث میں آیا ہے کہ جیسے سمندر کے کنارے ایک چڑیا پانی کی چونچ بھرتی ہو، اسی طرح خدائے تعالیٰ کے کلام اور فعل کے معارف اور اسرار سے حصہ ملتا ہے۔پھر کیا عاجز انسان ! ہاں نادان فلسفی اسی حیثیت اور مشینی پر خدائے تعالیٰ کے ایک فعل شق القمر پر اعتراض کرتا اور اسے قانون قدرت کے خلاف ٹھہراتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اعتراض نہ کرو نہیں، کرو اور ضرور کرو۔شوق سے اور دل کھول کر کرو۔لیکن دو باتیں زیر نظر رکھ لو۔اول خدا کا خوف (اور اس کی لامحدود طاقت ) دوسرے (انسان کی نیستی اور محدود علم ) بڑے بڑے فلاسفر بھی آخر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔انتہائے عقل ہمیشہ انتہائے جہل پر ہوئی ہے۔مثلاً ڈاکٹروں سے پوچھو کہ عصبہ مجوفہ کو سب وہ جانتے اور سمجھتے ہیں مگر نور کی ماہیت اور اس کا کنہ تو بتلاؤ کہ کیا ہے؟ آواز کی ماہیت پوچھو تو یہ تو کہہ دیں گے کہ کان کے پردہ پر یوں ہوتا ہے اور ڈوں ہوتا ہے لیکن ماہیت آواز خاک بھی نہ بتلا سکیں گے۔آگ کی گرمی اور پانی کی ٹھنڈک پر کیوں کا جواب نہ دے سکیں گے۔کنہ اشیاء تک پہنچنا کسی حکیم یا فلاسفر کا کام نہیں ہے۔دیکھئے ہماری شکل آئینہ میں منعکس ہوتی ہے لیکن ہمارا سر ٹوٹ کر شیشہ کے اندر نہیں چلا جاتا۔ہم بھی سلامت ہیں اور ہمارا چہرہ بھی آئینہ کے اندر نظر آتا ہے۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ چاند شق ہو اور شق ہو کر بھی انتظام دنیا میں خلل نہ آوے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ اشیاء کے خواص ہیں۔کون دم مارسکتا ہے۔اس لئے خدائے تعالیٰ کے خوارق اور معجزات کا انکار کرنا اور انکار کے لئے جلدی کرنا شتاب کاروں اور نادانوں کا کام ہے۔خدا کی قدرتوں اور عجائبات کو محدود سمجھنا دانش مندی نہیں۔وہ اپنی ماہیت نہیں