تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 325

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة القمر انداز نہیں کر سکتے۔آہ!۔ایک وقت تو وہ منہ سے خدا بولتے ہیں لیکن دوسرے وقت چہ جائیکہ ان کے دل ان کی روح خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان اور وراء الوریٰ قدرتوں کو دیکھ کر سجدہ میں گر پڑے۔اسے مطلق بھول جاتے ہیں۔اگر خدا کی ہستی اور بساط یہی ہے کہ اس کی قدرتیں اور طاقتیں ہمارے ہی خیالات اور اندازہ تک محدود ہیں تو پھر دعا کی کیا ضرورت رہی؟ لیکن نہیں۔میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور ارادوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ایسا انسان جو یہ دعویٰ کرے وہ خدا کا منکر ہے۔لیکن کس قدر واویلا ہے اس نادان پر جو اللہ تعالیٰ کو لامحدود قدرتوں کا مالک سمجھ کر بھی یہ کہے کہ شق القمر کا معجزہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔سمجھ لو کہ ایسا آدمی فکر سلیم اور دور اندیش دل سے بہرہ مند نہیں۔خوب یاد رکھو کہ کبھی قانون قدرت پر بھروسہ نہ کر لو۔یعنی کہیں قانون قدرت کی حد نہ ٹھہرا لو کہ بس خدا کی خدائی کا سارا راز یہی ہے۔پھر تو سارا تارو پود کھل گیا۔نہیں اس قسم کی دلیری اور جسارت نہ کرنی چاہئے۔جو انسان کو عبودیت کے درجہ سے گرا دے۔جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ایسی بیوقوفی اور حماقت کرنا کہ خدا کی قدرتوں کو محصور اور محدود کرنا۔کسی مومن سے نہیں ہوسکتی۔امام فخر الدین رازی کا یہ قول بہت درست ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کو عقل کے پیمانہ سے اندازہ کرنے کا ارادہ کرے گاوہ بیوقوف ہے۔دیکھو نطفہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔یہ لفظ کہہ دینے آسان اور بالکل آسان ہیں اور یہ ایک بالکل معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر یہ ایک سر اور راز ہے کہ ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا کرتا ہے اور اس میں اس قسم کے قومی رکھ دیتا ہے۔کیا کسی عقل کی طاقت ہے کہ وہ اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچے۔طبعیوں اور فلاسفروں نے بہتیرا زور مارا لیکن وہ اس کی ماہیت پر اطلاع نہ پاسکے۔اسی طرح ایک ایک ذرہ خدائے تعالیٰ کے تابع ہے۔اللہ تعالی اس پر قادر ہے کہ یہ ظاہر نظام بھی اسی طرح رہے اور ایک خارق عادت امر بھی ظاہر ہو جاوے۔عارف لوگ ان کیفیتوں کو خوب دیکھتے اور ان سے حظ اٹھاتے ہیں۔بعض لوگ ایک ادنی ادنیٰ اور معمولی باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں اور شک میں پڑ جاتے ہیں۔مثلاً ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا۔یہ امر بھی ایسا ہے جیسا شق القمر کے متعلق۔خدا خوب جانتا ہے کہ اس حد تک آگ جلاتی ہے اور ان اسباب کے پیدا ہونے سے فرو ہو جاتی ہے۔اگر ایسا مصالحہ ظاہر ہو جاوے یا بتلا دیا جاوے تو فی الفور مان لیں گے۔لیکن ایسی صورت میں ایمان بالغیب اور حسن ظن کا لطف اور خوبی کیا ظاہر ہو گی۔ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا خلق اسباب نہیں کرتا مگر بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں کہ نظر آتے ہیں اور بعض اسباب نظر نہیں آتے۔غرض یہ ہے کہ خدا کے افعال گونا گوں ہیں۔