تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 271

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة التريت آیت میں اشارہ کیا کہ جن و انس کی خلقت میں اس کی طلب و معرفت اور اطاعت کا مادہ رکھا گیا ہے اگر انسان میں یہ مادہ نہ ہوتا تو نہ دُنیا میں ہوا پرستی ہوتی نہ بت پرستی نہ انسان پرستی۔کیونکہ ہر یک خطا صواب کی تلاش میں پیدا ہوا ہے۔(منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۵۳، ۱۵۴ حاشیه ) میں نے پرستش کے لئے ہی جن وانس کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ پرستش اور حضرت عزت کے سامنے دائی حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بجز محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں اور محبت سے مراد یک طرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں۔تابجلی کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اس وقت اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے بشریت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کر لیں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۸،۲۱۷) چونکہ انسان فطرتا خدا ہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرمایا ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور اپنے پوشیدہ اور مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہوا ہے۔پس جب انسان جھوٹی اور نمائشی، ہاں عارضی اور رنج پر ختم ہونے والی محبتوں سے الگ ہو جاتا ہے پھر وہ خدا ہی کے لئے ہو جاتا ہے اور طبعاً کوئی بعد نہیں رہتا اور خدا کی طرف دوڑا چلا آتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۳۷) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے۔ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھواناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا کئے ہیں، تو کیا اُن سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ، حیوانات ہوں یا انسان حفظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش گن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محفوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہ ہو۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۲ پریل ۱۸۹۹ صفحه ۳) چونکہ انسان فطرتا خدا ہی کے لئے پیدا ہوا۔جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم