تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 262

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نزدیک ہیں۔۲۶۲ سورة ق سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۲۴ حاشیه ) میں انسان سے ایسا نزدیک ہوں کہ ایسی اس کی رگِ جان بھی نہیں۔ہم انسان سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں۔(شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۹) ست بیچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۰) ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا کہ حبل الورید کے خون کے نکلنے سے انسان کی موت ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ سے دُور پڑنے میں انسان کی موت ہے بلکہ اس سے زیادہ تر۔ہم اس سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۵) اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا۔اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہو جانا۔اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وار دکر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر۔اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں۔اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں۔اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو۔اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور انسانی قومی اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں۔اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اُس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اُس کی گنہ تک نہیں پہنچتیں۔وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی هم اُس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں۔لیکھر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۶۰) ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۷ )