تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 258

۲۵۸ سورة الحجرات تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلمنا ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے اور امنا اُس وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ دل میں ڈال دے۔ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور اسلام کے اور۔اسی لئے خدا نے اس وقت ایسے لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴۷) تم یہ نہ کہو کہ ایماندار ہو گئے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا ہے اور اطاعت اختیار کر لی ہے۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں۔کامل ایماندار بننے کے لیے مجاہدات کی ضرورت ہے اور مختلف ابتلاؤں اور امتحانوں سے ہو کر نکلنا پڑتا ہے۔گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود ولیک بخون جگر شود احکام جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۴، صفحه ۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہزاروں آدمی مرتد ہو گئے حالانکہ آپ کے زمانہ میں تکمیل شریعت ہو چکی تھی یہاں تک اس ارتداد کی نوبت پہنچی کہ صرف دو مسجد میں رہ گئیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی باقی کسی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی جاتی تھی۔یہ وہی لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا اسلمنا مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ دوبارہ اسلام کو قائم کیا اور وہ آدم ثانی ہوئے۔احکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۵ صفحه ۳) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقوی کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۵۳، ۶۵۴) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ هُمُ الصَّدِقُونَ سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک وشبہات میں نہیں پڑے دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا ہے کہ خدا کے نزدیک مومن