تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا سیم حلیم ۲۴۶ سورة الحجرات یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا۔( نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۶) اس نے اسے مومنو ایمان کو تمہارا محبوب بنادیا اور اس کا حسن و جمال تمہارے دل میں بٹھا دیا اور کفر اور بدکاری اور معصیت سے تمہارے دل کو نفرت دے دی اور بُری راہوں کا مکروہ ہونا تمہارے دل میں جمادیا۔یہ سب کچھ خدا کے فضل اور رحمت سے ہوا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۹) وَكَيْفَ يُنْسَبُ إِلَى الصَّحَابَةِ مَا اور صحابہ کی طرف ایسی بات کیسے منسوب کی جا سکتی يُخَالِفُ التَّقْوَى وَسُبَلَهُ وَيُبَايِنُ الْوَرْعَ ہے جو تقویٰ اور اس کی راہوں کے خلاف ہے اور پر ہیز وَحُلَلَهُ مَعَ أَنَّ الْقُرْآن شَهِدَ بِأَنَّ اللهَ گاری اور اس کی زیبائشوں کے منافی ہے۔پھر جبکہ قرآن حَبَّبَ إِلَيْهِمُ الإيْمَانَ وَكَرةَ إِلَيْهِمُ مجید نے یہ گواہی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ وَمَا كَفَرَ محبوب بنادیا تھا اور ان کے دلوں میں کفر، نافرمانی اور أَحَدًا مِّنْهُمْ مَعَ وُقُوعِ الْمُقَاتَلَةِ، فَضْلاً معصیت کی نفرت ڈال دی تھی اور ان کو آپس میں جنگ عَنِ الْمُشَاجَرَةِ، بَلْ سَلمى كُلّ أَحَدٍ مِن وجدال اور باہمی آویزش کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیا بلکہ الْفَرِيقَيْنِ مُسْلِمِينَ ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا نام مسلمان ہی رکھا۔(سرّ الخلافة، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۲۹) (ترجمه از مرتب) خدا نے تم پر پاک روح نازل کر کے ہر ایک نیکی کی تم کو رغبت دی ہے اور کفر اور فسق اور عصیان تمہاری ریویو آف ریلجنز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۹۵) نظر میں مکر وہ کر دیا۔وَإِنْ طَابِفَتَنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِن بَغَتْ إِحْدُهُمَا عَلَى الْأخْرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى اَمرِ اللهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَاصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا