تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 230

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة محمد عصمت کا مفہوم صرف اس حد تک ہے کہ انسان گناہ سے بچے اور گنہ کی تعریف یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کو عمداً تو ڑ کر لائق سز اکھہرے۔۔۔۔تعریف مذکورہ بالا کے رُو سے نابالغ بچے اور پیدائشی مجنون بھی معصوم ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی گناہ عمداً کریں اور نہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی فعل کے ارتکاب سے قابل سز ا ٹھہرتے ہیں۔پس بلا شبہ وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو معصوم کہا جائے۔( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۶۱، ۶۶۲) استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے یہ لفظ غفر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے کیونکہ خدا کی خالقیت نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو خدا کی صورت پر بنایا۔پس اسی طرح خدا کی قیومیت نے تقاضا کیا کہ وہ اس پاک نقش انسانی کو جو خدا کے دونوں ہاتھوں سے بنایا گیا ہے پلید اور خراب نہ ہونے دے لہذا انسان کو تعلیم دی گئی کہ وہ استغفار کے ذریعہ سے اُس کی قیومیت سے قوت طلب کرے پس اگر دنیا میں گناہ کا وجود بھی نہ ہوتا تب بھی استغفار ہوتا کیونکہ دراصل استغفار اس لئے ہے کہ جو خدا کی خالقیت نے بشریت کی عمارت بنائی ہے وہ عمارت مسمار نہ ہو اور قائم رہے اور بغیر خدا کے سہارے کے کسی چیز کا قائم رہنا ممکن نہیں۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے اسی کی طرف