تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 228

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ سورة محمد اپنے آپ کو لے آوے۔جو خدا کی پناہ نہیں چاہتا ہے وہ مغرور اور متکبر ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ / جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۷۸) انبیاء علیہم السلام کے جگلہ کرنے سے بھی انسان کا فر ہو جاتا ہے چونکہ وہ ان تعلقات سے محض نا آشنا ہوتا ہے جو انبیاء ورسل اور اللہ تعالی میں ہوتے ہیں اس لیے کسی ایسے امر کو جو ہماری سمجھ اور دانش سے بالا تر اور بالا تر ہے اپنی عقل کے پیمانہ سے نا پنا صریح حماقت ہے مثلاً آدم علیہ السلام کا گلہ کرنے لگے کہ انہوں نے درخت ممنوع کا پھل کھایا یا عبس وتوٹی کو لے بیٹھے ایسی حرکت آداب الرسل کے خلاف ہے اور کفر کی حد تک پہنچا دیتی ہے چونکہ خدا تعالیٰ ان کا محبوب ہوتا ہے بعض اوقات وہ کسی بات پر گو یا روٹھ جاتا ہے وہ باتیں عام قانون جرائم وذنوب سے الگ ہوتی ہیں۔۳۰ سال کے قریب کا عرصہ ہوتا ہے کہ ایک مقرب فرشتہ کو میں نے دیکھا جس نے مجھے ایک توت کی چھڑی ماری پھر میں نے اس کو دیکھا کہ کرسی پر بیٹھ کر رونے لگا یہ ایک نسبت بتائی ہے کہ جیسے بعض اوقات والدہ بچہ کو مارتی ہے پھر رقت سے خود ہی رونے لگتی ہے یہ ایک لطیف استعارہ ہے جو مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے۔میری سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ ان تعلقات کو جو انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ میں ہوتے ہیں کس طرح ظاہر کیا جاوے یہ تعلقات ایسے شدید اور گہرے ہوتے ہیں کہ بجز کامل الایمان ہونے اور اس کو چہ سے آشنا ہونے کے ان کی سمجھ آہی نہیں سکتی اس لیے صوفیوں نے لکھا ہے کہ ان کے افعال اور اعمال عام قانون جرائم و ذنوب سے الگ ہوتے ہیں ان کو اس ضمن ذنوب میں ذکر کرنا بھی سلب ایمان کا موجب ہو جاتا ہے۔کیونکہ ان کا حساب تعلقات کا ہے ذنب محمدی کی حقیقت کو کوئی کیا سمجھ سکتا ہے عام طور پر عاشق و معشوق کے تعلقات کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اور یہ تعلقات تو اس سے بھی لطیف تر ہیں۔احمق حقیقت سے نا آشنا استغفار کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جس قدر یہ لفظ پیارا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی پاکیزگی پر دلیل ہے وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عاشق رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کر رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پا کر تدارک کرتے ہیں۔یہ کیفیت ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجذوم القلب لوگوں کو سمجھائیں ان پر وارد ہو تو وہ سمجھیں جب ایسی حالت ہوتی ہے احسانات الہیہ کی کثرت آکر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر