تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة محمد جیسے کتا اس قدر کھاتا ہے کہ آخر قے کرتا ہے۔دوسرا یہ کہ انعام حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتے۔ایک بیل کبھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ یہ ہمسایہ کا کھیت ہے۔اس میں نہ جاؤں۔ایسا ہی ہر ایک امر جو کھانے کے لحاظ سے ہو۔نہیں کرتا۔کتے کو ناپا کی ، پاکی کے متعلق ، اندازہ کے متعلق کوئی لحاظ نہیں اور پھر چار پایہ کو اعتدال نہیں۔یہ لوگ جو اخلاقی اصولوں کو توڑتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے کہ گویا انسان نہیں۔پاک پلید کا تو یہ حال، عرب میں مُردے، کتے کھا لیتے تھے۔اب تک اکثر ممالک میں یہ حال ہے کہ چوہوں اور کتوں اور بلیوں کو بڑے لذیذ کھانے سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔چوہڑے چمار مُردار خور تو میں یہاں بھی موجود ہیں۔پھر یتیموں کا مال کھانے میں کوئی تردد و تامل نہیں۔جیسے یتیم کا گھاس گائے کے سامنے رکھ دیا جاوے۔بلاتر در کھالے گی۔ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہے۔یہی معنے ہیں وَ النَّارُ مَثْوًى لَهُمْ ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ر جولائی ۱۹۰۰ صفحه (۴) وو روحانیت اور پاکیزگی کے بغیر کوئی مذہب چل نہیں سکتا۔قرآن شریف نے بتلایا ہے کہ آنحضرت صلعم کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی۔يَأْكُلُونَ كَمَا تَأكُلُ الْأَنْعَامُ پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان : ۲۵ ) جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا۔انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے۔قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہوتو وہ مذہب چل سکتا ہے اس کے بغیر کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا اور اگر کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخه ۱۲/اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۲۹۰) میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آر یہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور ثاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأكُلُ الْأَنْعَامُ یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہوگئی يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَاما یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال