تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ سورة الدخان جیسا کہ صرف ایک موت کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے لا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى سو یہ بات اس کے سچے وعدہ کے برخلاف ہے کہ مردوں کو پھر دنیا میں بھیجنا شروع کر دیوے۔اور کیوں کر ممکن تھا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور نبی اس مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کی شرائط میں سے ہے آسکتا۔کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرئیل ہے اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیئے کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اُسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اُس وقت ٹوٹ جائے گی۔اور اگر کہو کہ مسیح ابن مریم نبوت تامہ سے معزول کر کے بھیجا جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیئے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی سزا میں نبوت سے اس کو الگ کر دیا جائے اور وہ زمین پر آکر دوسروں کے پیرو بنیں اوروں کے پیچھے نماز پڑھیں اور امام اعظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں۔اور حفی الطریق ہو کر حنفی مذہب کی تائید کر یں۔لیکن یہ جواب معقول نہیں ہے خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس الزام سے اُن کو بری کر دیا ہے اور ان کی نبوت کو ایک دائمی نبوت قرار دیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۷) منتقی امن کے مقام میں آگئے۔وہ بجز پہلی موت کے جو اُن پر وارد ہوگئی پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور خدا ان کو جہنم کے عذاب سے بچائے گا۔اس میں بھید یہ ہے کہ مومن منتقی کا مرنا چار پائیوں اور مویشی کی طرح نہیں ہوتا بلکہ مومن خدا کے لئے ہی جیتے ہیں اور خدا کے لئے مرتے ہیں اس لئے جو چیزیں وہ خدا کے لئے کھوتے ہیں اُن کو وہ واپس دی جاتی ہیں۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۹)