تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 205

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الدخان ہوا کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں جوش مارنے والا۔پھر دوزخی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اس درخت کو چکھے، تو عزت والا اور بزرگ ہے۔یہ کلام نہایت غضب کا ہے۔اس کا ماحصل یہ ہے کہ اگر تو تکبر نہ کرتا اور اپنی بزرگی اور عزت کا پاس کر کے حق سے منہ نہ پھیر تا تو آج یہ تلخیاں تجھے اٹھانی نہ پڑتیں۔یہ آیت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ دراصل یہ لفظ زقوم کا ذقی اور آمر سے مرکب ہے اور آم - إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ کا ملخص ہے۔جس میں ایک حرف پہلے کا اور ایک حرف آخر کا موجود ہے اور کثرت استعمال نے ذال کوزا کے ساتھ بدل دیا ہے۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا کے ایمانی کلمات کو بہشت کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ایسا ہی اسی دنیا کے بے ایمانی کے کلمات کو زقوم کے ساتھ مشابہت دی اور اس کو دوزخ کا درخت ٹھہرایا اور ظاہر فرما دیا کہ بہشت اور دوزخ کی جڑھ اسی دنیا سے شروع (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۲، ۳۹۳) ہوتی ہے۔بہشتی زندگی والا انسان خدا کی یاد سے ہر وقت لذت پاتا ہے اور جو بد بخت دوزخی زندگی والا ہے تو وہ ہر وقت اس دُنیا میں زقوم ہی کھا رہا ہے۔اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے۔مَعِيشَةً ضَنعًا بھی اس کا نام ہے جو قیامت کے دن زقوم کی صورت پر متمثل ہو جائے گی۔غرض دونوں صورتوں میں باہم رشتے قائم ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامِ آمِينِ متلقی امن کے مقام میں آگئے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۹) لا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى وَ وَقَهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (۵۷) بہشتیوں پر دوسری موت نہیں آئے گی۔ایک موت جو آ چکی سو آ چکی۔اب جو لوگ کہتے ہیں کہ مسیح جو مر گیا کیا خدائے تعالیٰ قادر نہیں کہ اس کو پھر زندہ کر کے بھیجے گویا اُن کے نزدیک مسیح بہشتی نہیں جو اس کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں۔حضرات اپنی بات کی ضد کے لئے مسیح کو بار بار کیوں مارنا چاہتے ہو اس کا کون سا گناہ ہے جو اس پر دو موتیں آویں اور پھر ان دو موتوں کا حدیث اور قرآن کی رُو سے ثبوت کیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۶)