تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 191
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 191 سورة الزخرف فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ۔اگر وہ اس سنت اللہ سے خبر رکھتے جس کو قرآن کریم نے پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إذَا هُمْ يَنكُمُونَ (سورۃ الزخرف) تو جلدی کر کے اپنے تئیں ندامت کے گڑھے میں نہ ڈالتے مگر ضرور تھا کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اس زمانہ کے لئے پہلے سے فرمایا تھا وہ سب پورا ہوا۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۹۰) إن هو إلا عَبْدُ انْعَمُنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَاءِيلَ وَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَيْكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ وَ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَبْتَرُنَ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَذَا صِرَاهُ مُسْتَقِيمُ۔إِنه لَعِلْمُ السَّاعَةِ کے یہ معنے ہیں کہ یہودیوں کے ادبار اور ذلت کی نشانی مسیح کے آنے کا وقت تھا اور جَعَلْنَهُ مَثَلًا لِبَنِی اِسْرَاء یک بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ساعۃ کے معنی آخرت کے بھی ہیں۔(البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۸) ( إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَهْتَرُنَ بِهَا - ( ظاہر ہے کہ خدائے تعالی اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو۔سو اس آیت پر غور کر کے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس کو حضرت عیسی کے نزول سے کچھ بھی تعلق نہیں آیت تو یہ بتلا رہی ہے کہ وہ نشان مُردوں کے جی اٹھنے کا اب بھی موجود ہے اور منکرین کو ملزم کر رہی ہے کہ اب بھی تم کیوں شک کرتے ہو۔اب ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالی کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب اُن کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اُٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدائے تعالیٰ لوگوں کو کیوں کر ملزم کر سکتا ہے کیا اس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے؟ کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام ونشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے کیا اُن کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہو سکتا کہ یا الہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا جس کی وجہ سے فَلَا تَمتَرنَ بِهَا کی