تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 190

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ سورة الزخرف تماشہ دکھا یا جاوے۔غرض ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور جنسی کی جاتی ہے۔ان پر لعنت کرنا ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور اپنی نصرت کی چمکار دکھاتا ہے۔اس وقت دنیا کو ثابت ہو جاتا ہے اور غیرت الہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجلی میں اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے۔سو اول نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور آخر میں اس کی باری آتی ہے۔اس کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ پھر خدا تعالیٰ کے ماموروں پر مصائب اور مشکلات کے آنے کا ایک یہ بھی سر ہوتا ہے ، تا ان کے اخلاق کے نمونے دنیا کو دکھا ئیں جاویں اور اس عظیم الشان بات کو دکھائے جو ایک معجزہ کے طور پر ان میں ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰/جون ۱۹۰۱ صفحه ۲) وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقِيضُ لَهُ شَيْطئًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ۔(٣ جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نا بینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔اب اگر ہم کسی ایسی حدیث کو قبول کر لیں جو صریح قرآن کی مخالف ہے تو گویا ہم چاہتے ہیں کہ شیطان ہمارا دن رات کا رفیق ہو جائے اور اپنے وساوس میں ہمیں گرفتار کرے اور ہم پر نا بینائی طاری ہو اور ہم حق سے بے نصیب رہ جائیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷) فَاسْتَمْسِكُ بِالَّذِى أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَ إِنَّهُ لَذِكْرُ لَكَ وَ لِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْتَلُونَ قرآن کو ہر یک امر میں دستاویز پکڑو۔تم سب کا اس میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو اور اسی کو مقدم رکھو۔اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔( الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷)