تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 133

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورة الشورى اس کا اجر خدا کے پاس ہے یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے۔مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگزر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قومی کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعا ترک کر دی گئی ہے۔پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اُس پر بددعا کی اور دوسروں کو دُعا کرنا سکھلایا۔اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے اُن کے نام رکھے۔اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگزر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کر نا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔پس در حقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۶،۳۴۵) قرآن شریف نے بے فائدہ عفو اور درگزر کو جائز نہیں رکھا کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شیراز کانظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ اس عضو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔چشمه مسیحی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۶ حاشیه ) اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اس قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد۔یعنی عفو اپنے محل پر ہو نہ غیر محل پر۔پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔اب دیکھئے اس سے بہتر اور کون سی تعلیم ہوگی کہ عفو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۷) بدی کا بدلہ بدی ہے جو کی جائے جیسا کہ توریت کی تعلیم ہے مگر جو شخص عفو کرے جیسا کہ انجیل کی تعلیم ہے تو اس صورت میں وہ عضو مستحسن اور جائز ہوگی جب کہ کوئی نیک نتیجہ اس کا مرتب ہوا اور جس کو معاف کیا گیا کوئی اصلاح اس کی اس عفو سے متصور ہو ورنہ قانون یہی ہے جو توریت میں مذکور ہے۔(پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۱)