تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة الشورى امن عامہ میں خلل واقع ہوگا۔پھر کیوں کر ہم تسلیم کریں کہ یہ تعلیم عمدہ ہے یا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو سکتی ہے اگر اس پر عمل ہو تو کسی ملک کا بھی انتظام نہ ہو سکے ایک ملک ایک دشمن چھین لے تو دوسرا خود حوالہ کرنا پڑے۔ایک افسر گرفتار ہو جاوے تو دس اور دے دیئے جاویں۔یہ نقص ہیں جو ان تعلیموں میں ہیں۔اور یہ صحیح نہیں۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ احکام بطور قانون مختص الزمان تھے۔جب وہ زمانہ گزر گیا دوسرے لوگوں کے حسب حال وہ تعلیم نہ رہی۔یہودیوں کا وہ زمانہ تھا کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہے اور اس غلامی کی زندگی کی وجہ سے ان میں قساوت قلبی بڑھ گئی اور وہ کینہ کش ہو گئے۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں کوئی ہوتا ہے اُس کے اخلاق بھی اسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔سکھوں کے زمانہ میں اکثر لوگ ڈاکو ہو گئے تھے۔انگریزوں کے زمانہ میں تہذیب اور تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور ہر شخص اس طرف کوشش کر رہا ہے۔غرض بنی اسرائیل نے فرعون کی ماتحتی کی تھی اسی وجہ سے اُن میں نظلم بڑھ گیا تھا۔اس لئے توریت کے زمانہ میں عدل کی ضرورت مقدم تھی کیونکہ وہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور جابرانہ عادت رکھتے تھے۔اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ دانت کے بدلے دانت کا توڑ نا ضروری ہے۔اور یہ ہمارا فرض ہے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھایا کہ عدل تک ہی بات نہیں رہتی بلکہ احسان بھی ضروری ہے۔اس سبب سے مسیح کے ذریعہ انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔اور جب اسی پر سارا زور دیا گیا تو آخر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس تعلیم کو اصل نکتہ پر پہنچادیا۔اور وہ یہی تعلیم تھی کہ بدی کا بدلہ اُسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور اجر ہے۔عضو کی تعلیم دی ہے مگر ساتھ قید لگائی کہ اصلاح ہو بے محل عفو نقصان پہنچاتا ہے۔پس اس مقام پر غور کرنا چاہئے کہ جب توقع اصلاح کی ہو تو عفو ہی کرنا چاہئے۔جیسے دو خدمتگار ہوں ایک بڑا شریف الاصل اور فرمانبردار اور خیر خواہ ہو لیکن اتفاقاً اس سے کوئی غلطی ہو جاوے اس موقع پر اس کو معاف کرنا ہی مناسب ہے۔اگر سزادی جاوے تو ٹھیک نہیں۔لیکن ایک بدمعاش اور شریر ہے ہر روز نقصان کرتا ہے اور شرارتوں سے باز نہیں آتا اگر اُسے چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بھی بیباک ہو جائے گا۔اُس کو سزا ہی دینی چاہئے۔غرض اس طرح پر حل اور موقع شناسی سے کام لو۔یہ تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے اور جو کامل تعلیم ہے اس کے بعد اور کوئی نئی تعلیم یا شریعت نہیں آسکتی۔لیکھر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۵،۲۸۴) بدی کی جزا اسی قدر ہے جس قدر بدی کی گئی۔مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود ہو تو