تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 118
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۱۸ سورة حم السجدة والا ہے اگر وید میں اس آیت کے ہم معنے کوئی شرتی ہوتی تو کروڑ ہا آدمی مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷۹۷۸) اِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي ابْتِنَا لَا يَخْفَونَ عَلَيْنَا أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرُ امْ لا مَنْ يَأت امنا يَوْمَ الْقِيمَةِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ جب انسان بہت تعلق خدا کے ساتھ پیدا کرتا ہے اور سب طرح سے اس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعْمَلُ مَا شِئْتَ فَإِنِّي غَفَرْتُ لَكَ یعنی جو تیری مرضی ہو کئے جا میں نے تجھے سب کچھ بخش دیا۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا اِعْمَلُوا ما شفتم یعنی جو چاہو سو کئے جاؤ۔پس یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔اور بہت رحم سے معاملہ کرتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخه ۷ /اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۲۵) سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کی کیا انسان اباحتی ہو جاتا ہے اور سب کچھ اس کے لیے جائز ہو جاتا ہے؟ پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ یہ بات نہیں کہ وہ اباحتی ہو جاتا ہے بلکہ بات اصل یہ ہے کہ عبادت کے انتقال اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر تکلف اور تصنع سے کوئی عبادت وہ نہیں کرتا بلکہ عبادت ایک شیر ہیں اور لذید غذا کی طرح ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالف اس سے ہوسکتی ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کا ذکر اس کے لئے لذت بخش اور آرام دہ ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے اِعْمَلُوا مَا شِغْتُم اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ نواہی کی اجازت ہو جاتی ہے نہیں بلکہ وہ خود ہی نہیں کر سکتا اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی خصتی ہو اور اس کو کہا جاوے کہ تو جو مرضی ہے کر وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس سے فسق و فجور مراد لینا کمال درجہ کی بے حیائی اور حماقت ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جہاں کشف حقائق ہوتا ہے صوفی کہتے ہیں اسی کے کمال پر الہام ہوتا ہے اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہو جاتی ہے اس وقت اسے یہ حکم ملتا ہے۔پس انتقال عبادت اس سے دور ہو کر عبادت اس کے لیے غذا شریں کا کام دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ (البقرة :۲۶) فرمایا گیا ہے۔(الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۴)