تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 117

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 112 سورة حم السجدة سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کیا اچھا کہا ہے کہ ع لطف کن لطف که بیگانه شود حلقه بگوش رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۳) تیرا دشمن جو تجھ سے بدی کرتا ہے اس کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کر۔اگر تو نے ایسا کیا تو وہ تیرا ایسا دوست ہو چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۵) جائے گا کہ گو یا رشتہ دار بھی ہے۔بدی کے مقابلہ میں نیکی کرنا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوست بن جاتا ہے اور دوست بھی ایسا کہ گانہ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۵ مؤرخہ ۱۱ را پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۶) وَلِي حَبِيم - وَمِنْ التِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ و اسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ تم سورج اور چاند کو بھی مت سجدہ کرو اور اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر حقیقی طور پر خدا کے پرستار ہو تو اسی خالق کی پرستش کرو نہ مخلوق کی۔( براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) تم نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی بلکہ فقط اس ذات قدیم کی پرستش کرو جس نے ان تمام علوی و سفلی چیزوں کو وجود بخشا ہے۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۶۱) نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے یہ تمام چیزیں سورج ، چاند ، آسمان ، آگ، پانی وغیرہ پیدا کی ہیں۔چاند اور سورج کا ذکر کر کے پھر بعد اس کے جمع کا صیغہ بیان کرنا اس غرض سے ہے کہ یکل چیزیں جن کی غیر قو میں پرستش کرتی ہیں تم ہرگز ان کی پرستش مت کرو۔(نیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۸) نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی اور نہ کسی اور مخلوق کی۔اور اس کی پرستش کر وجس نے تمہیں پیدا کیا۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۵۴) نہ تم سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی بلکہ اُس ذات کی پرستش کرو کہ جو ان سب چیزوں کا پیدا کرنے