تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 111

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة حم السجدة جدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی۔غرض وَضْعُ الشّيء في محله کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ بیت طبعی کا نام استقامت ہے۔پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اُسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی۔دُعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں۔اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) کا مزا آ جاتا ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۱۳، ۱۴) مرض کسل اور مخزن۔۔۔۔۔اگر اسباب روحانی سے ہے تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں جو اللہ جلشانہ نے فرمایا ہے إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ۔سوخدا تعالیٰ کو اپنا متولی اور متکفل سمجھنا اور پھر لا زمی امتحانوں اور آزمائشوں سے متزلزل نہ ہونا اور مستقیم الاحوال رہنا بھی خوف اور حزن کا علاج ہے۔(مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۲۳، ۲۴) جولوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت دکھاتے ہیں الخ یعنی ابتلاء کے وقت ایسا شخص دکھلا دیتا ہے کہ جو میں نے منہ سے وعدہ کیا تھا وہ عملی طور سے پورا کرتا ہوں۔کیونکہ ابتلا ضروری ہے۔جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ( العنكبوت: ۳) اللہ تعالى فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ، ان پر فرشتے اترتے ہیں۔مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اتر نا نزع میں ہے۔یہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جولوگ دل کو صاف کر تے ہیں اور نجاست اور گندگی سے، جو اللہ سے دور رکھتی ہے، اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر فرمایا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ التي كُنتُمْ تُوعَدُونَ یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۶) جنہوں نے کہا کہ رب ہمارا اللہ ہے اور استقامت دکھلائی اور ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ کو ڈھونڈھا۔مطلب یہ کہ کامیابی استقامت پر موقوف ہے اور وہ اللہ کو پہچانا اور کسی ابتلا اور زلازل اور امتحان سے نہ ڈرنا