تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 110
+11 سورة حم السجدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ہوں اور ان الہامات کے پانے سے وہ لوگ امام وقت سے مستغنی نہیں ہو سکتے اور اکثر یہ الہامات ان کے ذاتیات کے متعلق ہوتے ہیں اور علوم کا افاضہ ان کے ذریعہ سے نہیں ہوتا اور نہ کسی عظیم الشان تحدی کے لائق ہوتے ہیں اور بہت سے بھروسے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض وقت ٹھوکر کھانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔اور جب تک امام کی دستگیری افاضہ علوم نہ کرے تب تک ہرگز ہرگز خطرات سے امن نہیں ہوتا۔اس امر کی شہادت صدر اسلام میں ہی موجود ہے۔کیونکہ ایک شخص جو قرآن شریف کا کا تب تھا اس کو بسا اوقات نور نبوت کے قرب کی وجہ سے قرآنی آیت کا اس وقت میں الہام ہو جاتا تھا جبکہ امام یعنی نبی علیہ السلام وہ آیت لکھوانا چاہتے تھے۔ایک دن اس نے خیال کیا کہ مجھے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق ہے۔مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔اس خیال سے وہ ہلاک کیا گیا۔اور لکھا ہے کہ قبر نے بھی اس کو باہر پھینک دیا۔جیسا کہ بلغم ہلاک کیا گیا۔( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۳) جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو جامع صفات کا ملہ ہے۔جس کی ذات اور صفات میں اور کوئی شریک نہیں اور یہ کہہ کر پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔اور کتنے ہی زلزلے آویں اور بلائیں نازل ہوں اور موت کا سامنا ہو۔ان کے ایمان اور صدق میں فرق نہیں آتا۔اُن پر فرشتے اترتے ہیں اور خدا اُن سے ہم کلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو اور نہ گزشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور میں اسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔پس تم اس سے خوش ہو۔اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہلِ دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔درحقیقت اسلام وہ مذہب ہے جس کے سچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گذشتہ راستبازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس امتِ مرحومہ کو عطا کر دی ہیں۔(لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۱) جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسم اعظم استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا۔پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و خون ان کو نہیں رہتا، میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے۔مثلاً ڈور بین کے اجزا کو اگر خدا