تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 81
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام M سورة المؤمن کے چار پہر برابر سوز و گداز اور گریہ وزاری اور سجدات اور جانکاہی میں گزریں کبھی ممکن نہیں کہ خدائے کریم ورحیم ایسی دعا کو نا منظور کرے۔خاص کر وہ دعا جو ایک مقبول کے منہ سے نکلی ہو۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۴۱، ۲۴۲) خدا کسی کام میں عاجز نہیں آتا۔ہاں خدا کی کتاب نے دعا کے بارہ میں یہ قانون پیش کیا ہے کہ وہ نہایت رحم سے نیک انسان کے ساتھ دوستوں کی طرح معاملہ کرتا ہے یعنی بھی تو اپنی مرضی کو چھوڑ کر اس کی دعا سنتا ہے جیسا کہ خود فرمایا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور بھی کبھی اپنی مرضی ہی منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرما یا لَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرۃ : ۱۵۲) ایسا اس لئے کیا کہ تا کبھی انسان کی دعا کے موافق اس سے معاملہ کر کے یقین اور معرفت میں اس کو ترقی دے اور کبھی اپنی مرضی کے موافق کر کے اپنی رضا کی اس کو خلعت بخشے اور اس کا مرتبہ بڑھاوے اور اس سے محبت کر کے ہدایت کی راہوں میں اس کو ترقی دیوے۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱ حاشیه ) ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم دعا کرو میں قبول کروں گا۔لیکچر لدھیانه ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۵۴) جابجا قرآن شریف میں دعا کی ترغیب دی ہے اور مجاہدہ کی طرف رغبت دلائی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی دعا کرو کہ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔لیکچر لا ہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۹) یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دُعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے بھی وہ اُن کی دُعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت اُن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اُس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اُس سے منوانا چاہتا ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی تم مجھ سے دُعا کرو میں تمہاری دُعا قبول کروں گا اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضا و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَی ءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ) (البقرة : ۱۵۷) (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۷،۱۵۶)