تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 77
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام LL سورة المؤمن دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہورہی ہے۔مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا۔بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور میسر آ جاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔تب دوا نشانہ کی طرح جاکر اثر کرتی ہے۔یہی قاعدہ دُعا کا بھی ہے۔یعنی دُعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اُسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ انہی اُس کے قبول کرنے کا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متاثرات میں باندھ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔یہ دعا جو آيت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔اس سے مراد معمولی دُعائیں نہیں ہیں۔بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ گل دُعائیں فرض میں داخل نہیں ہیں۔بلکہ بعض جگہ اللہ جل شانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو انا للہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔اور اس دُعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے۔اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعید نہیں۔بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دُعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے چنانچہ ابي أَعِظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ (هود : ۴۷) اس پر شاہد ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دُعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لا تسئلن (هود : ۴۷) کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا ! اور بعض اوقات اولیا اور انبیا دُعا کرنے کو سوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دُعاؤں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دُعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دُعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دُعا سے منہ پھیر لیا۔ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دُعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رڈ کروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ ہے بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ (الانعام :۴۲) سورۃ الانعام الجز نمبرے اور اگر ہم تلولا مان بھی لیں کہ اس مقام